30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس طور پر اصل اجارہ بھی جائز ہوگیا۔اور وہ مندر کا خدشہ بھی دفع ہوا کہ اس نے تو زمین زراعت کے لئے ٹھیکہ پر دی ہے۔آگے جو نافرمانیاں ناحفاظیاں ٹھیکہ دار کرے اس کے سر ہیں،اس سے کوئی تعلق نہیں۔
مسئلہ اجارہ دیہات کی تمام تحققیق فقیر غفر اﷲ تعالٰی لہ نے اپنے رسالہ"اجود القرٰی لطالب الصحۃ فی اجارۃ القرٰی"میں ذکر کی جس کی ضرورت نہایت اشد کہ آج کل ایك زمانہ اس سے غافل،ا ور صحیح وجائز طریقہ ملتے ہوئے صرف جہالت کے سبب گناہ عظیم واکل حرام میں مبتلا،نسأل اﷲ العفو والعافیۃ۔واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب۔
مسئلہ ۲۲۲: از شہر کہنہ نوادہ مرسلہ شیخ محمد حسین ولد حافظ اکرام اﷲ ۱۳ رجب ۱۳۱۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اپنی حقیت زمینداری کا ٹھیکہ تین سال کے واسطے اس شرط سے دیتاہے کہ آمدنی حقیت میں سے بعد ادائے مالگزاری سرکار بیس روپے سالانہ ٹھیکہ دار لیا کرے۔اور سوروپے سالانہ زید مالك زمینداری کو دیا کرے۔اورتین سال کا زر توفیر زید اپنے ٹھیکہ دار سے پیشگی لیتاہے۔تو ا س صورت میں ٹھیکہ دار کو بیس روپے سالانہ لینا شرعا جائز ہوگا یانہیں؟ اگرنہیں تو اس کے جواز کی کیا صورت شرعا ممکن ہے؟ بینوا توجروا
الجواب:
یہ صورت ناجائز وحرام ہے۔
|
کما حققناہ فی فتاوٰنا ونص علیہ فی الفتاوی الخیریۃ و العقود الدریۃ والدرالمختار وردالمحتار وغیرہا من الاسفار۔ |
جیساکہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تحقیق کی ہے اور فتاوٰی خیریہ،عقود الدریہ،درمختار اور ردالمحتار وغیرہ کتبھ میں اس پر نص ہے۔(ت) |
ہاں جواز یوں ہوسکتا ہے کہ زید کو یہ شخص تین سو روپے بلا سود دست گرداں دے دے،اور زید اسے اپنی حقیت کی تحصیل تشخیص کے لئے بیس روپے سال پر اجیر مقرر کرے۔قرض دہندہ دیانت وامانت سے کام کرے،جو منافع خالص ہو اس سے بیس روپے سال اپنی اجرت تحصیل کے لئے اور باقی جس قدر بچے سو روپے ہوں خواہ کم خواہ زائد،وہ سب مالك کو پہنچائے یا اپنے قرض یا مجرالے یہاں تك کہ تین سو روپے ادا ہوجائیں،اس کے بعد جو بچے سب مالك کو دے پھر تحصیل پر اس کے اجیر ہونے کو چاہیں دونوں شخص باقی رکھیں یا فسخ کریں،واﷲ تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع