30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
المقرر فی کلام مشائخنا باجمعہم ان الاجارۃ تملیك نفع بعوض وانہا اذا وقعت علی استھلاك الاعیان فہی باطلۃ ومماصرحوا بہ ان من استاجر بقرۃ لیشرب لبنہا اوکرما لیاکل ثمرتہ فہو باطل ومما یقطع الشغب قولہم"جعل العین منفعۃ غیر متصور "فاذا علم ان الاجارۃ اذا وقعت علی استہلاك الاعیان قصدا وقعت باطلۃ فعقد الاجارۃ المذکورۃ حیث لم یقع علی الانتفاع بالارض بالزرع ونحوہ بل علی اخذ المتحصل من الخراج بنوعیہ اعنی الخراج الموظف والمقاسمۃ وما علی الاشجار من الدراھم المضروبۃ فہو باطل باجماع ائمتنا والباطل لاحکم لہ باطباق علمائنا واذا قلنا بطلانہ لزوم المستاجران یرد جمیع ماتناول من المزاعین من غلال ونقود وغیر ذٰلك [1]۔ |
ہمارے تمام مشائخ کے کلام میں ہے کہ اجارہ منافع کا عوض کے بدلے مالك بننے کانام ہے اور اگریہ عین چیز کو ہلاك کرنے پر منعقد ہو تو باطل ہوگا،اوران کی تصریحات میں ہے کہ جو شخص گائے کو دودھ پینے کے لئے یاانگور کا درخت پھل کھانے کئے لئے اجارہ پرلے تو یہ باطل ہے۔اور اس عمل کے غلط ہونے پر ان کا یہ قول قطعی ہے کہ عین چیز کو اجارہ قصدا عین چیز کو ہلاك کرنے پر واقع ہواہے تو باطل ہوگا تواجارہ مذکورہ جب زمین سے انتفاع پر نہیں بلکہ زمین سے حاصل آمدن کو وصول کرنے پر دو طرح سے ہے یعنی مقررہ حصہ کی وصولی اور درختوں کے پھل کی وصولی کے عوض مقررہ دراہم،تویہ ہمارے ائمہ کے اجماع کے مطابق باطل ہے او باطل چیز کاہمارے علماء کے اتفاق کے مطابق کوئی حکم نہیں ہے اور جب ہم نے باطل کہہ دیا تو مستاجر پر لازم ہے کہ اس نے جو کچھ مزارعین سے غلہ یا نقد وصول کیا واپس کرے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
اعلم ان الاجارۃ اذ اوقعت علی اتلاف الاعیان قصدا کانت باطلہ فلایملك المستاجر ماوجد من تلك الاعیان بل ھی |
معلوم ہونا چاہئے کہ کہ جب اجارہ قصدا عین چیز کو تلف کرنے پر ہو تو وہ باطل ہوگامستاجر جو کچھ بھی ان اعیان چیزوں میں سے حاصل کرے وہ اس کا مالك |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع