30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
العلی العظیم۔
اصل کلّی یہ ہے کہ جس طرح عقد بیع اعیان پر وارد ہوتاہے یونہی اجارہ ایك عقد ہے کہ خالص منافع پر ورود پاتاہے جس کا ثمرہ یہ ہوتاہے کہ ذات شیئ بدستور ملك مالك پر باقی رہے اور مستاجر اس سے نفع حاصل کرے۔جو اجارہ خاص کسی عین وذات کے استہلاك پر وار دہو،محض باطل ہے اَللّٰہُمَّ اِلاَّ ماَ اسْتَثْنَاہُ الشَّرْعُ کَاِجَارَۃِ الظَّئر للْاِرْضاعِ(ہاں مگر وہ جس کوشرع نے مستثنٰی کردیاہے جیسا کہ دودھ پلانے والی عورت کا اجارہ۔ت)وغیر ذلک،اسی لئے اگر باغ کو بغرض سکونت اجارہ میں لیا جائز، اور پھل کھانے کے لئے ناجائز،کہ سکونت منفعت اور ثمر عین گائے کو لادنے کے لئے اجارہ میں لیا جائز،دودھ پینے کو ناجائز،کہ لادنا منفعت ہے اور دودھ عیں حوض سنگھاڑھے رکھنے کےلئے اجارہ میں لیا جائز،مچھلیاں پکڑنے کو ناجائز،کہ سنگھاڑھے بونا منفعت ہے،مچھلیاں عین۔
|
فی ردالمحتار عن البزازیۃ الاجارۃ اذا وقعت علی العین لاتصح فلا یجوز استیجار الاٰجام والحیاض لصید السمك اورفع القصب وقطع الحطب اولسقی ارضہا اولغنمہ منہا وکذا اجارۃ المرعی،والحیلۃ فی الکل ان یستاجر موضعا معلوما لعطن الماشیۃ، و یبیح الماء والمرعی [1] الخ،وفی الفتاوٰی الخیریۃ لنفع البریۃ قد صرحوا بان عقد الاجارۃ علی اتلاف لاعیان مقصودا کمن استاجر بقرۃ لیشرب لبنہا، لا ینعقد و کذٰلك لو استاجربستانا الیا کل ثمرتہ،[2] و المسئلۃ مصرح بہافی منح الغفار وکثیر من |
ردالمحتار میں بزازیہ سے منقول ہے کہ جب اجارہ عین کی ہلاکت پر ہو تو صحیح نہ ہوگا،جیسے پودوں کے ذخیرے اور حوض مچھلی پکڑنے اور ناڑ کاٹنے اور لکڑی کاٹنے یا ان زمینوں کو سیراب یا جانوروں کو پلانے کے لئے اوریونہی چراگاہ اجارہ پر لینا اور ان سب امور کےلئے حیلہ یہ ہے کہ وہاں کوئی معین جگہ جانور رکھنے کے لئے کرایہ پر حاصل کرے،اور پانی اور چارہ کو مالك مباح کردے الخ،اورفتاٰی خیریہ لنفع البیریہ میں ہے کہ فقہاء کرام پر اجارہ منعقد نہ ہوگا،جیسے گائے دودھ کے لئے اور باغ کو اس کاپھل کھانے کے لئے اجارہ پر لینا جبکہ یہ مسئلہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع