30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(بہت سے احکام زمانہ کے اختلاف سے مختلف ہوجاتے ہیں۔جیسا کہ عالمگیریہ میں ہے۔ت)کلیہ غیر مخصوصہ کہ طاعات پر اُجرت لینا ناجائز ہے ائمہ نے حالات زمانہ دیکھ کر اس میں سے چند چیزیں بضرورت مستثنٰی کیں:امامت،اذان،تعلیم قرآن مجید، تعلیم فقہ،کہ اب مسلمانوں میں یہ اعمال بلانکیر معاوضہ کے ساتھ جاری ہیں،مجمع البحرین وغیرہ میں ان کا پانچواں وعظ گنا و بس،فقیہ ابواللیث سمرقندی فرماتے ہیں،میں چند چیزوں پر فتوٰی دیتا تھا،اب ان سے رجوع کی،ازانجملہ میں فتوٰی دیتا تھا کہ عالم کو جائز نہیں کہ دیہات میں دورہ کرے اور وعظ کے عوض تحصیل کرے مگراب اجازت دینا ہوں،لہذا یہ ایسی بات نہیں جس پر نکیر لازم ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۰ الف:مسئولہ مولوی عبدالرحیم بخش صاحب مدرس مدرسہ فیض الغرباء ۳۰ محرم ۱۳۳۲ھ فیض الغرباء آرہ شاہ آباد
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کچہری کی ججی،سب ججی،منصفی،رجسٹراری کی نوکری شرعا جائزبلاکراہت ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب:
جس نوکری میں خلاف ماانزل اﷲ حکم کرنا پڑتا ہو ہر گز جا ئز نہیں،اگر چہ سلطنت اسلام کی ہو،ائمہ دین نے تیسری صدی کے آخر میں اپنے زمانہ کے سلاطین اسلام کی نسبت فرمایا:من قال لسلطان زماننا عادل فقدکفر(جس نے ہمارے زمانہ کے حاکم کو عادل کہا وہ کافر ہے۔ت)ان قضاۃ کی نسبت قرآن عظیم میں تین الفاظ ارشاد ہوئے " الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۴۵﴾"[1]،" الْفٰسِقُوۡنَ ﴿۴۷﴾"[2]، " الْکٰفِرُوۡنَ ﴿۴۴﴾ "[3]،جب قاضیاں اسلام سلطنت کی نسبت یہ احکام ہیں تو سلطنت غیر اسلامیہ کے حکام تو مقرر ہی اس لئے کئے جاتے ہیں کہ مطابق قانون فصیلہ کریں،رہی رجسٹراری،اس میں اگر چہ حکم نہیں،مگر وہ دستاویزوں پر شہادت ہے اور انھیں رجسٹرپر چڑھانا،اور ان میں بہت دستاویزیں سو دکی بھی ہوتی ہیں اور صحیح حدیث میں ہے:
|
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم |
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے لعنت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع