30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہیں تو ان کی تجارت میں احتیاط سخت دشوار اور اسلم احتراز،اور ٹھیکہ یہاں غالبا بایں معنٰی ہے کہ گورنمنٹ سے ان کو اجازت دی جاتی ہے،دوسرا نہیں بیچ سکتا،یہ ایك قانونی بات ہے جس کا ان پرالزام نہیں،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۸: از شہر ڈونگر پور ملك میواڑ راجپوتانہ برمکان جمعدار سمندرخان مسئولہ عبدالرؤف خاں ۱۳ محرم ۱۳۳۹ھ
اگر مسجد کے احاطہ میں کوئی درخت پھولوں کا ہو اور وہ ٹھیکہ کسی ہندو کو دیا جائے اور وہ پھول بُتوں پرچڑھائے جائیں،اور اس کا پیسہ عمارت مسجدمیں لگانا،روشنی وغیرہ میں صرف کرنا درست ہے یانہیں؟
الجواب:
ٹھیکہ دینا حرام ہے اور اس کا روپیہ حرام،پھر بتوں پر چڑھانے کے نیت سے ہو تو اور سخت،اور اگریہ نہیں بلکہ ہندو کا مال اس کی رضاسے ایك نام عقد کے حیلہ سے حاصل کرنا ہو،اور ان پھولوں کے توڑنے کے لئے کافر کا مسجد میں آنا جانا نہ ہو تو حرج نہیں، اور وہ روپیہ مسجد میں لگاسکتے ہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۱۹ عــــــہ: مسئولہ محمد محمود از قصبہ باندہ ضلع شاسٹی متصل بمبئی ۲۲ ربیع الاول ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اندریں مسئلہ کہ کوئی شخص مقرر کرکے بطور اجرت کے وعظ کرے اور وعظ گوئی کو پیشہ اور سلسلہ معاش جان کر بسر اوقات کرنی اختیار کرے،جائز ہے یاناجائز؟ تفسیر رؤفی والے اس آیہ کریمہ کی تفسیر میں ناجائز اور قریب حرام کے فرماتے ہیں(آیہ کریمہ): " وَلَا تَشْتَرُوۡا بِاٰیٰتِیۡ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ۫"[1] (اور میری آیات کے بدلے حقیر مال نہ لو۔ت)فقط۔
الجواب:
اصل حکم یہ ہے کہ وعظ پر اجرت لینی حرام ہے۔درمختار میں اسے یہود ونصارٰی کی ضلالتوں میں سے گنا [2]مگر کم من احکام یختلف باختلاف الزمان،کما فی العلمگیریہ[3]۔
عــــــہ: مسئلتان من مجلدات سوٰی ماذکرت ۱۲ عبدالمنان اعظمی(یہ دو۲ مسئلے مختلف جلدوں میں تھے۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع