30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بہر حال اس میں شك نہیں کہ یہ رقم اصل جو گورنمنٹ وریاست سے لے کر بنك میں بنام ملازم جمع ہوتی ملك ملازم ہے۔وہی وہ زیادت کہ ڈاکخانہ بنام سوددیتاہے اسے بہ نیت سودلینا ہر گز جائز نہیں۔
|
قال اﷲ تعالٰی " وَاَحَلَّ اللہُ الْبَیۡعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰواؕ "[1]۔ |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:اﷲ نے بیع کو حلال کیا اور سود کوحرام کیا۔(ت) |
اور خودیہ نیت نہ کرے بلکہ مال گورنمنٹ سے برضائے گورنمنٹ ایك رقم جائز بحال استحقاق خود اپنے لئے ورنہ اپنے بھائیوں فقراء ومساکین ودیگر اہل استحقاق کے لئے بیت المال سے لینا سمجھے تو حرج نہیں،اگرچہ دینے والے اسے کسی لفظ سے تعبیر کریں یا اپنے نزدیك کچھ سمجھیں۔
|
فانما الاعمال بالنیات وانما لکل امری مانوی[2] وقد فصلنا القول فی ھذا لمرام فی فتاوٰینا بما لامزید علیہ۔ |
اعمال کا دار ومدار نیت پر ہے اور ہر شخص کو اس کی نیت پر ملے گی،اور ہم نے اس مقصد میں تفصیلی قول اپنے فتاوٰی میں بیان کیا ہے۔جس پر زائد کی گنجائش نہیں۔(ت) |
اصل یہ ہے کہ بیت المال اسلامی ہو خواہ اسلامی نہ ہو،جب اتنظامات شرعیہ کا اتباع نہ کرے تو اہل استحقاق مثلا طلبہ علم دین وعلمائے دین کہ اپنا وقت خدمات دینیہ مثلا درس وتدریس ووعظ و افتاد تصنیف میں صرف کررہے ہوں اگر چہ لکھو کھاروپے کے،مالك اغنیا کثیر المال ہوں اور بیوہ،یتیم،لنجے،اندھے،فقراء،مساکین،جو کچھ اس میں سے برضائے سلطنت بے عذر وفتنہ وارتکاب جرائم پائیں ان کےلئے جائز ہے،اگر چہ دینے والا کسی دوسری وجہ ناجائز کے نام سے دے۔
|
فانہم انمایأخذون وینوون ماھولہم فلا باس علیہم ممانوی غیرہم |
کیونکہ وہ لوگ لیتے ہیں اور اپنی نیت پر فائدہ پاتے ہیں تو غیر کی نیت کا ان پر کوئی بوجھ نہ ہوگا۔(ت) |
درمختار میں ہے:
|
من لہ حظ فی بیت المال وظفر بما ہو موجہ لہ لہ اٰخذہ دیانۃ،وللمودع |
جس کا بیت المال میں جتنا حق ہے اس کے مطابق خود لے لینے میں دیانۃ جائز ہے۔اور جس کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع