30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لانہا تتقدم وتتاخر [1](ملخصا)۔ |
یہ امور آگے پیچھے ہوتے رہتے ہیں۔(ملخصا)(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
فی الزاھدی باعہ بثمن نصفہ نقد ونصفہ اذا رجع من بلد کذا فھو فاسد [2]۔ |
زاہدی میں ہے کسی چیزکو یوں فروخت کرنا کہ اس کی نصف قیمت نقد اور نصف فلاں شہر سے واپسی پر دوں گا تو وہ فاسد ہوگی۔(ت) |
مگر اجارہ فاسدہ میں بھی بعد استیفائے منفعت اُجرت،کہ یہاں وہی اجر مثل ہے،واجب ہوجاتی ہے۔ا ور وہ اجیر کی ملك ہے۔
درمختارمیں ہے:
|
حکم الفاسد وجوب اجر المثل بالاستعمال[3]۔ |
فاسد اجارہ کا حکم یہ ہے کہ استعمال کرلینے پر مثل اجرت واجب ہوتی ہے۔(ت) |
بلکہ منیہ وقنیہ وجامع الرموز و محیط غرر الافکار وغیرہا کی رو سے اس ملك میں خبیث بھی نہیں ہوتا۔اجیر کے لئے طیب ہوتی ہے اگرچہ اصل عقد گناہ وفاسد تھا۔ردالمحتارمیں ہے:
|
الاجر یطیب وان کان السبب حراما کذا فی المنیۃ قہستانی [4] اھ الخ ونقل منہ مثلہ السید الحموی فی غمز العیون عن القنیۃ ثم عقبہ بقولہ لم یذکر وجہہ فلینظر [5] اھ وذکر الشامی عن منح الغفار الا شمس الائمۃ الحلوائی قال تطیب الاجرۃ فی الاجارۃ الفاسدۃ اذا کان اجر المثل وذکر فی المسئلۃ قولین واحدھما اصح فراجع نسخۃ صحیحۃ [6] اھ۔ |
اجرت حلال ہے اگرچہ سبب حرام ہو،جیسا کہ منیہ میں ہے، قہستائی الخ،اور سید حموی نے غمز العیون میں قنیہ سے ا س کی مثل نقل کیا ہے،اور پھر اس کے بعد ذکر کیاکہ انھوں نے اس کی وجہ ذکر نہ کی توغور کرناچاہئے اھ،علامہ شامی نے منح الغفار سے نقل کیا ہے کہ شمس الائمہ حلوائی نے فرمایا ہے کہ اجارہ فاسدہ میں اجرت حلال ہے جب وہ مثلی اجر ت کے برابر ہوں اور انھوں نے مسئلہ میں دو قول ذکرکئے اور دونوں میں ایك اصح ہے تو صحیح نسخہ کی مراجعت چاہئے۔اھ(ت) |
[1] درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۷
[2] ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث لعربی بیروت ۴/ ۱۱۹
[3] درمختار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۷۷
[4] ردالمحتار کتاب الاجارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۸
[5] غمز عیون البصائر الفن الثانی کتاب الاجارات ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۶۱
[6] ردالمحتار کتاب لاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع