30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
حلال ہے اگر کچھ نہ دینے کا ذکر آیا،نہ عرف ورواج کی راہ سے معاوضہ ثابت تھا،او ریونہی بطور حسن سلوك اسے کچھ دے دیا جب تو خود ظاہر کہ اسے لینے میں اصلا حرج نہیں یہاں تك کہ اگر کوئی شخص کسی نمازی کو نماز عمدہ طور پر پڑھتے دیھے اس کا دل خوش ہو کچھ روپیہ بطور نذریا ہدیہ یا انعام کے اسے دے،تو اس کے لینے میں کچھ مضائقہ نہیں،کہ یہ اُجرت سے اصلا تعلق نہیں رکھتا،اور اگرباہم قرارداد ہولیا کہ ہمارے مقدمہ کے لئے فلاں ختم پڑھواوروقت واُجرت وغیرہ کی صحیح تعین کردی جس سے اجارہ میں جہالت نہ رہے تو یہاں یہ بھی حلال ہے کہ اس صورت میں ثواب مقصود نہیں بلکہ قضائے حاجت کی تدبیر و علاج، تویہ اس طرح ہوا جیسے مریض پر پڑھ کر پھونکنے کی اجرت لے،اس کا جواز صحیح حدیث سے ثابت ہے،صحاب کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم ایك گاؤں میں ٹھہرے،وہاں کے لوگوں نے برخلاف عادت عرب مہمانی نہ دی،رئیس دیہہ کو سانپ نے کاٹہ، لوگ ان کے پاس آئے،انھوں نے سو دنبے ٹھہرالئے،سوہ فاتحہ شریف پڑھ کر دم کردی،اچھا ہوگیا،پھر صحابہ کو خیال آیا کہ کہیں قرآن مجید پر اُجرت لینا نہ ہوگیا ہو،ان بکرویوں کو نہ کھایا،جب مدینہ طیبہ حاضر ہوئے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے حال عرض کیا،حضور نے اجازت دی اور فرمایا:
|
ان احق مااخذتم علیہ اجرا کتاب اﷲ[1] رواہ البخاری عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔ |
جس چیز پر اجرت لو اس میں سب سے زیادہ حق کتاب اﷲ کو ہے۔اس کو بخاری نے ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا ہے۔(ت) |
ردمحتار میں ہے:
|
ان المتقدمین المانعین الاستیجار مطلقا،جوزو الرقیۃ،بالاجرۃ ولو بالقرآن کما ذکرہ الطحطاوی لانہا لیست عبادۃ محضۃ بل من التداوی [2]۔ |
متقدمین جو اُجرت لینا منع فرماتے ہیں انھوں نے بھی دم کرنے پراُجرت لینا جائز کہا ہے خواہ یہ دم قرآن کے ساتھ ہو، جیسا کہ طحطاوی نے ذکر کیا ہے کیونکہ یہ خالص عبادت نہیں بلکہ ایك علاج ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع