30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شرط نہ کرنے سے ایك اور خباثت بڑھ جاتی ہے اجارہ جو امر جائز پر ہو وہ بھی اگر بے تعین اجرت ہو تو بوجہ جہالت اجارہ فاسدہ اور عقد حرام ہے،نہ کہ وہ اجارہ کو خودناجائز تھا،وہ تو حرام درحرام ہوگیا،یہ حاوی جس میں یہ بیہودہ حکم ۴۵ درم والا لکھا ہے،حاوی قدسی نہیں،حاوی زاہذا ہے،کما فی ردالمحتار [1](جیسا کہ ردالمحتارمیں ہے۔ت)اور یہ زاہدی ایك معتزلی بدمذہب تھا،کما فی الردالمختار فی الاسفار [2](جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ کتب میں ہے۔ت)اور اس کا یہ حکم قوانین شرع سے محض جُدا،او ر یہ تجدیدشرع مطہر پر صریح افتراء ہے۔
جو حافظ اس کا پیشہ رکھے فاسق معلن ہے،اور فاسق معلن کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی،کہ اسے امام بنانا گناہ اور جو نماز اس کے پیچھے پڑھی ہو اس کا پھیرنا واجب،ہاں اگر اس کی حلت چاہیں تو اس کا طریقہ یہ ہے یہ پڑھوانے والے وقت معین کے ساتھ مثلا روزانہ صبح کے ۷بجے سے ۱۰ بجے تك اور شام ۲ بجے سے ۴ بجے تک،یا جو وقت مقرر کریں،ایك اجرت معینہ پر مثلا ۴ روز یا جو قرار پائے،ان حافظوں کو اپنے کار خدمت کے لئے نوکررکھیں،اس وقت معین کے لئے یہ ان کے ملازم ہوگئے انھوں اختیار ہے جو کام چاہیں لیں،ازاں جملہ یہ کہ فلاں میت کے لئے قرآن عظیم پڑھو،اب یہ حلال ہے،دینا واجب اور لینا روا،کہ اب یہ اجارہ قرآن خوانی پر نہیں،بلکہ ان حافظوں کے منافع نفس پر ہے،یہاں تك کہ اگر یہ اس وقت مقرر پر پابندی کے ساتھ حاضر رہیں اور مستاجرین ان سے کچھ کام نہ لیں،جب بھی تنخواہ واجب ہوگی۔
|
لان المستحق علیہم انما کان تسلیم النفس وقد حصل کما ھو حکم"اجیر الواحد"۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
کیونکہ وہ پابندتھے کہ اپنے نفس کو سونپ دیں،اور یہ کام ہوگیا جیسا کہ اجیر خاص کا حکم ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۲۱۳: از شہر محلہ ملوکپور مسئولہ مولوی امیر اﷲ صاحب ۲۶ ذوالحجہ ۱۳۲۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص ۵ روپیہ ماہوار کا نوکر تھا اس نے خود نوکری ترك کردی،رقعہ کے ذریعہ سے بقیہ تنخواہ مانگی،ذیقعدہ سنہ حال کی ۲۸ سے چھوڑی،چنانچہ عبارات اس کی بلفظہٖ درج ہے:"میں نے ۲۸ ذیقعدہ بروز پنچشبنہ کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع