30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۲۱۲ عــــــہ: از احمد آباد گجرات محلہ جمال پورہ متصل مسجد کارنج مرسلہ مولانا عبدالرحیم صاحب ۱۶ شوال ۱۳۲۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ یہاں شہر احمد آباد میں بعض"حافظ القرآن"حضرات اہلسنت وجماعت کے مکانوں پر سوم وچہم منانے جاتے ہیں،اور"کلام مجید"پڑھ کر اموات کی خدمت میں ایصال ثواب کرتے ہیں اور وہاں سے اجرت لیتے ہیں اور اس میں جُہلاء بہت ثواب سمجھتے ہیں،آیا یہ ایصال ثواب کرکے اُجرت لنا جائز ہے یا حرام ہے۔
اُجرت لے کر ایصال ثواب کرے تو اموات کی خدمات میں ثواب پہنچتاہے یانہیں؟
اور جو حافظ القرآن اُجرت لے کر ثواب کرنے کے لئے احباب اہلسنت وجماعت کے مکانوں پر تشریف لے جاتے ہیں ان کے پیچھے نمازی پڑھنا جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
اُجرت پر کلام اﷲ شریف بغرض ایصال ثواب پڑھنا پڑھوانا دونوں ناجائز ہے،اور پڑھنے والا اور پڑھوانے والا دونوں گنہ گار۔اور اس میں میت کے لئے کوئی نفع نہیں،بلکہ اس کی مرضی وصیت سے ہوتو وہ بھی وبال میں گرفتار۔
|
قال اﷲ تعالٰی " وَلَا تَشْتَرُوۡا بِاٰیٰتِیۡ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ۫"[1]۔ |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:اورمیری آیتوں کے بدلے تھوڑے دام نہ لو۔(ت) |
اور یہ کہنا کہ ہم اﷲ کے لئے پڑھتے ہیں اور دینے والے بھی ہمیں اﷲ کے لئے دیتے ہیں محض جھوٹ ہے۔اگریہ نہ پڑھیں تو وہ ایك حبہ ان کو نہ دیں،اور اگر وہ نہ دیں تو یہ ایك صفحہ نہ پڑھیں،اور شرع مطہر کا قاعدہ کلیہ المعروف کالمشروط [2](معروف مشروط کی طرح ہے۔ت)بلکہ اس ظاہری
|
عــــــہ: ھذہ الفتوٰی وثلثۃ بعدہ کانت متفرقۃ فی ابواب شتٰی ماعدا باب الاجارۃ فی الجلد الثامن ۱۲ عبدالمنان اعظمی |
آٹھویں جلد(قدیم،جدید ۱۹)میں یہ او اس کے بعد کے تین فتوے مختلف ابواب میں متفرق تھے ان کو اجارہ میں یہاں منتقل کیا گیا ہے۔عبدالمنان اعظمی(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع