30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو جب تك ٹال رہی اس کا کرایہ ضرور واجب ہے،اور جب سے خالی کردی اس کا اصلا استحقاق نہیں،اس بیچ میں جتنے دن عبداﷲ کے قبضے میں رہی،اگر اس میں کوئی انتفاع اس نے زمین سے حاصل کیا،اس کے حساب سے کرایہ دے گا ورنہ نہیں،اور دونوں صورتوں کا کرایہ مثل دے گا جو اجر مسمی یعنی کرایہ قرار یافتہ سے زائد نہ ہو،مثلا اجر مثلی یعنی بازاری نرخ سے اس کام کے لئے کرایہ مثل دے گا جو ماہوار ہے،اور ٹھہرا روپیہ یا روپیہ سے زیادہ تو روپیہ دے گا،اور ٹھہرا بارہ آنے تو بارہ ہی آنے دے گا۔اس لئے کہ یہ اجارہ اس قرارداد پر ہو اکہ اگر چنگی ممانعت کردے مالکان زمین کو اس سے بحث نہیں عبداﷲ کرایہ دے گا،یہ شرط خلاف مقتضائے عقد ہے اس سے اجارہ فاسد ہوگا۔فریقین پر اس کا فسخ واجب تھا کہ ازالہ گناہ لازم ہے،اور اجارہ فاسد میں اجر مثل لازم آتاہے کہ اجر مسمی سے زائد نہ ہو،متن ہدایہ میں ہے:
|
لاانفطع ماء الرحی والبیت مما ینتفع بہ لغیرا الطحن فعلیہ من الاجر بحصتہ [1]۔ |
اگر آٹے کی چکی کاپانی منقطع ہوجائے اور وہ کمرہ پسائی کے بغیر بھی قابل انتفاع ہے تو اس نفع کے حصہ کا اجر کرایہ دارپر لازم ہے۔(ت) |
تبیین الحقائق میں ہے:
|
فاذا استوفاہ لزمتہ حصتہ [2]۔ |
اگر اس نے فائدہ پایا ہو تو اتنے کا معاوضہ لازم ہوگا۔(ت) |
اس مسئلہ کی غایت تحقیق وتنقیح فتاوٰی میں ملاحظہ ہو،خلاصہ میں ہے:
|
وفی مجموع النوازل استاجر حماما بدل معلوم ان علیہ الاجر حال جریانہ وانقطاعہ فہذا الشرط مخالف لمقتضی عقد الاجارۃ فیفسد [3]۔ |
مجموع النوازل میں ہے کہ ایك حمام مقررہ کرایہ پر لیا ا س شرط پر کہ چالو ہو یا نہ ہو ہر حال میں کرایہ لازم ہوگا تو یہ شرط مقتضی عقد کے خلاف ہے لہذا اجارہ فاسد ہوگا۔(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع