30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرنا جائز ہے یا نہیں،نیزاس کی آمدنی سے کسی مسجد یا مدرسہ وغیرہ کی اعانت ہوسکتی ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
اس دکان کی ملازمت اگر سود کی تحصیل وصول یا اس کا تقاضا کرنا یا اس کاحساب لکھنا،یا کسی اور فعل ناجائز کی ہے تو ناجائز ہے۔
|
قال تعالٰی " وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثْمِ وَالْعُدْوٰنِ ۪"[1]۔ |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:گناہ اور زیادتی پر تعاون نہ کرو۔(ت) |
صحیح مسلم شریف میں ہے:
|
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اٰکل الربا و مؤکلہ وکاتبہ وشاہدیہ وقال ہم سواء [2]۔ |
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی سو دکھانے والے،اورر سود دینے والے اور سودلکھنے والے،او ر سود کے گواہوں پر،اور فرمایا وہ سب برابر ہیں۔ |
اوراگر کسی امر جائز کی نوکری ہے تو جائز ہے،تنخواہ میں وہ روپیہ کہ بعینہٖ سود میں آیا ہو نہ لے،اورمخلوط ونامعلوم ہو تو لے سکتاہے۔یونہی ایسے نامعلوم روپے سے مسجد ومدرسہ کی اعانت بھی ہوسکتی ہے،خصوصا ایسی حالت میں کہ مال حلال غالب ہے۔
|
فی الہندیۃ عن الذخیرۃ عن محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال بہ نأخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ [3]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
ہندیہ میں ذخیرہ سے وہاں امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی سے منقول ہے کہ ہمارا یہی موقف ہے جب تك کسی معین چیز کے حرام ہونے کا علم نہ ہو۔(ت) |
مسئلہ ۲۰۹:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے معاہدہ اور وعدہ اقرار تقریری اور تحریری کیا تھا کہ اگر عمرو اپنے پاس سے خرچ کرکے کرے گا اور کامیابی ہوگی تو بجائے اس کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع