30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
والمحمولۃ الیہ[1] (رواہ ابوداؤد وابن ماجۃ)وزاد الترمذی واٰکل ثمنہا [2]،واﷲ تعالٰی اعلم |
جس کے لئے اٹھاکر لائی جائے(اسے ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا۔ت)اور ترمذی نے یہ زیادہ کیا جو اس کے دام کھائے ان سب پر واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
(۲)جبکہ اس نے صرف مکان کرائے پر دیا ہے،کرایہ داروں نے ہوٹل کیا اور افعال مذکورہ کرتے ہیں تو زید پر الزام نہیں " وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی ؕ"[3](کوئی جان کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائیگی۔ت)اس صورت میں وہ کرایہ کے لئے جائز ہے۔اگر اس نے کسی اسلامی جگہ میں خاص اس غرض ناجائز کےلئے دیا تو گنہ گار ہے،مگر کرایہ کہ منفعت مکان کے مقابل ہے نہ ان افعال کے اب بھی جائز ہے،ہدایہ میں ہے:
|
من اٰجر بیتا لیتخذ فیہ بیت ناراوکنیسۃ اویباع فیہ الخمر بالسواد فلا باس بہ لان الاجارۃ ترد علی منفعۃ البیت ولا معصیۃ فیہ انما المعصیۃ بفعل المستاجر [4]۱ھ(ملخصا)اقول: وھذا ھو محمل مافی الغمز عن القنیۃ وفی جامع الرموز عن المنیۃ وفی المنح عن شمس الائمۃ الحلوانی،وفی ردالمحتار عن غرر الافکار عن المحیط عن الامام ان الاجر طیب و ان کان السبب حراما[5] کما حققناہ فی ماعلی ردالمحتار علقناہ |
جس نے مکان کرایہ پر دیا کہ اس میں آتش کدہ یا گرجا یا وہاں شراب فروخت کی جائے توکوئی حرج نہیں کیونکہ اجارہ کا انعقاد مکان کی منفعت پر ہواہے اس میں کوئی گناہ نہیں ہےگناہ تو کرایہ دار کے فعل سے ہوا اھ(ملخصا)میں کہتاہوں جو غمز میں قنیہ سے اور جامع الرموز میں منیہ سے اور منح میں شمس الائمہ حلونی سے اور ردالمحتار میں غرر الافکار اس میں محیط سے اس میں حضرت امام اعظم رحمہ اﷲ تعالٰی سے منقول ہے کہ اجرت طیب ہوگی اگرچہ سبب حرام ہو،کا یہی محمل ہے جیسا کہ اس کی تحقیق ہم نے ردالمحتار پر اپنے |
[1] سنن ابی داؤد کتاب الاشربہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۶۱وسنن ابن ماجہ ابواب الاشریہ باب لعنت الخمر علی عشرۃ اوجہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۵۰
[2] جامع الترمذی ابواب البیوع باب ماجاء فی بیع الخمر الخ امین کمپنی کراچی ۱/ ۱۵۵
[3] القرآن الکریم ۱۸/ ۳۵
[4] الہدایہ کتا ب الکراھیۃ فصل فی البیع مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۷۰
[5] ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۸والاشباہ والظائر الفن الثالث الکلام فی مہر المثل ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۲۲۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع