30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی کے موانع الرجوع میں ہے:
|
والمیم موت احد المتعاقدین بعد التسلیم فلو قبلہ بطل[1]۔ |
میم سے مراد فریقین میں سے کسی ایك کی موت قبضہ دینے کے بعد اور اگر قبضہ سے پہلے موت واقع ہوجائے تو باطل ہو جائے گا۔(ت) |
یہ موروثیت شرعا کوئی چیز نہیں،نہ پسر متوفی اسے جبرا اپنی کاشت میں رکھ سکتاتھا نہ اس کے بیٹے کو یہ دعوٰی پہنچتاہے،رہا اس کھیت کا لگان سوال بصیغہ مجہول ہے کہ اب دوسرے کاشتکار کو اٹھایا گیا،معلوم نہیں کہ کس نے اٹھایا،اگرسب ورثاء نے اٹھایا، یاسب کے اذن سے ایك نے اٹھایا،یا ایك نے اٹھایا او رباقیوں نے اسے جائز کیا،تو اس کا لگان حصہ رسد سب شرکاء کی ملك ہے، (للعہ عہ/)ہو یا(عہ/)یا ایك پیسہ۔یا ہزارروپے،اور ایك مثلا پسر متوفی نے بے رضائے باقی ورثہ اٹھایا،اور باقیوں نے اٹھانے کے بعد بھی اسے نافذ نہ کیا تو اس کا لگان اسی اٹھانے والے کی ملك ہوگا،مگر اپنے حصہ میں ملك طیب اور اوروں کے حصوں میں بھی ملك خبیث کہ اس پر فرض ہے کہ باقی شرکاء کو ان کے حصوں کی قدر اس میں سے دے،اور یہی افضل ہے اور ان کے لئے طیب ہے،ورنہ فقراء پر تصدق کرے،اپنے صرف میں لانا حرام ہے۔فتاوٰی خیریہ میں ہے:
|
المنافع لاتتقوم الابالعقد،وھو صادر منہ بلاوکالۃ سابقہ ولا اجارۃ لاحقۃ فملکہا الشریك العاقد،لکن ملکہ فی غیر ملکہ ملك خیبث،فیجب علیہ التصدق بہ اودفعہ لشرکائہ خروجا من الاثم و الثانی افضل لخروجہ من الخلاف ایضا [2]،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
منافع صرف عقد سے قیمتی بنتتے ہیں جبکہ یہ عقد مالك سے صادر ہو بغیر سابق وکالت اور بغیر اجازت لاحق کے ہو،تو شریك عقد کرنے والا مالك ہوگا لیکن غیر کے حصہ میں ملك خبیث ہوگی جس کا صدقہ کرنا یا اپنے شریك کو دینا واجب ہے تاکہ گناہ سے فارغ ہوجائے،دوسری صورت(شریك کو دینا) افضل ہے،تاکہ اختلاف سے بچ جائے،واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع