30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ملازمت کی صورتیں جو سائل نے لکھیں اس کا جواب کلی کہ انھیں اور ان جیسے دس ہزار کو شامل ہو،یہ ہے کہ ملازمت دو قسم ہے:
ایك وہ جس میں خود ناجائز کام کرنا پڑے،جیسے یہ ملازمت جس میں سودکالین دین،اس کا لکھنا پڑھنا،تقاضا کرنا اس کے ذمہ ہو،ایسی ملازمت خود حرام ہے،اگر چہ اس کی تنخواہ خالص مال حلال سے دی جائے،وہ مال حلال بھی اس کے لئے حرام ہے،اور مال حرام ہے،تو حرام درحرام۔
دوسرے یہ کہ وہ ملازمت فی نفسہٖ امر جائز کی ہومگرتنخواہ دینے والا وہ جس کے پاس مال حرام آتاہے،اس صورت کاحکم یہ ہے کہ اگر معلوم ہو کہ جو کچھ اسے تنخواہ میں دیا جارہا ہے،بعینہٖ مال حرام ہے۔نہ بدلا نہ مخلوط ہوا نہ مستہلك ہوا تو اس کا لینا حرام ورنہ جائز۔
|
قال محمد بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ [1]۔ہندیۃ عن الظہیریۃ۔ |
امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا،ہم اسی کو اختیار کریں گےجب تك عین حرام چیز کا علم نہ ہو،ہندیہ میں ظہیریہ سے منقول ہے۔(ت) |
یہ حکم ملازمتوں کا ہے،مزارع یا تاجر کا غلہ ومال کسی کے ہاتھ بیچنا اسی قسم اخیر کے حکم میں ہے اور سود لینا خواہ گورنمنٹ سے ہو یا مشرکین سے خود فعل ناجائز ہے،یہ قسم اول کے حکم میں داخل ہے،اور سود دینا اگر محض مجبوری شرعی سے ہو جس کی تفصیل ہمارے فتاوٰی میں ہے،تو اجازت ہے۔
|
یجوز للمحتاج الاستقراض بالربا [2]۔ |
محتاج کو سودپر قرض لینا جائز ہے۔(ت) |
ورنہ حرام،اور دینا لینا یکساں،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۸: مولوی حشمت علی صاحب محلہ گڑھیاں بریلی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ایك جگہ پڑھانے پر نوکر ہے،جمعرات کو صبح کے وقت زید کی کچھ طبیعت علیل تھی مگر اس وجہ سے کہ پڑھائی میں حرج نہ ہو پڑھانے چلا گیا،ساڑھے نو بچے تك پڑھایا،بعدازاں زیادہ طبیعت خراب ہوئی اور پڑھایا نہ گیاتو زید نے اس سے جس کے یہاں پڑھاتا تھا کہا کہ مجھ سے اب باقی وقت کام نہیں ہوتا ہے مجھے چھٹی دے دیجئے،تب اس شخص نے زید کو جواب دیا کہ اپنا وقت گیار ہ بجے تك پورا کردیجئے ورنہ رخصت یوم کی تنخواہ وضع ہوگی،زید نے اس کے جواب میں کہا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع