30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سوم:قرض لیا ہوا روپیہ بھی اس کی پونجی میں شامل ہوتاہے۔
اصل مقصد ان بنکوں کا یہ ہےکہ اپنے ممبروں کو سخت ضرور ت کے وقت سادہ سود کے کم نرخ پر قرض دے کر مہاجنوں کے سود در سود اور بھاری شرح کی مار سے ضرورتمند ممبروں کو جن میں مسلمان اور ہل ہنود دونوں ا ز قسم زمیندار وزراعت پیشہ وتجارت پیشہ ودیگر کاروباری شامل ہیں محفوظ رکھا جائے،ملازمان بنك کارہائے مفوضہ میں ممبران بنك کو کفایت شعاری کی ہدایت کرتے رہنا اور غیر ضروری کاموں کے لئے قرض نہ لینے دینا ایك اہم فریضہ ہے،بنك جو اپنے ممبروں کو قرض ادا کرتاہے اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ممبران اپنا اپنا کاروبار چلانے کے لئے ضروری روپیہ بنك سے قرض لیتے ہیں جس کی شرح سود بالعموم ایك روپیہ سے سوا روپیہ سیکڑہ تك سادہ ہوتی ہے،اور یہ قرض مع سود بالاقساط ادا کیا جاتاہے،اس طرح پر قرضداروں کو مہاجنوں سے قرض لینے کے مقابلالہ میں بہت زیادہ منفعت رہتی ہے۔مثلا کسی معمولی حیثیت کے مسلمان ممبر نے سخت ضرورت کے وقت پانچسو روپیہ بنك سے قرض لے،تو یہ قرض پانچ سال میں بالاقساط مع سادہ سود کے آٹھ سو پچھتر روپیہ کی تعداد میں بنك کوادا کیا جائے گا۔اور بالفرض اگر کوئی قسط کسی مجبوری سے نہ ادا ہوسکے توبلا کسی تاوان کے قرضدار کو مزید مہلت ملے گی،یعنی بجائے پانچ سال لے ساڑھے پانچ سال میں ادا ہوسکتی ہے،درانحالیکہ مہاجن سے پانچسو روپیہ قرض لینے میں دو روپیہ کی سود درسود کی شرح سے کم نہیں ملے گا،اورششماہی سود شامل اصل ہو کر پانچ برس کے عرصہ میں(ال صما للع للعہ)روپیہ یعنی بنك کے قرضہ سے دوگنا دینا پڑے گا،اورا گر پانچ سال کے بجائے ساڑھے پانچ برس تك یہ قرض رہ گیا تو تقریبا دو ہزار روپیہ دینا پڑینگے جیسا کہ اکثر مسلمان جو سودی قرض لینے کے عادی ہیں،مہاجنوں کے چنگل میں پھنس کر بغیر تباہ ہوئے نہیں بچتے،اس لحاظ سے یہ بنك ان مسلمان ممبروں کے لئے زیادہ مفید کہی جاسکتی ہے،جو ضروری اور غیر ضروری کاموں کے لئے بلحاظ کفایت شعاری سودی قرض لینے کے عادی ہیں قرض پر سو د کی رقم جو بنك کو اصل کے ساتھ ادا کی جاتی ہے اس میں بیشتر حصہ اس رقم کا ہوتاہے جو بطریق ذیل پیدا کی جاتی ہیں:
ا۔زراعت پیشہ لوگ جس میں اکثر مشرکین ہوتے ہیں،بغر زراعت ضروری روپیہ بنك سے قرض لے کر زراعت کرتے ہیں اور اس کے ماحصل سے جو مقدار قرض سے کئی حصہ زیادہ ہوتاہے کچھ جزوی رقم سود کے نام سے قرضہ بنك میں ادا کرتے ہیں۔
ب۔اسی طرح تجارت پیشہ لوگ اپنی تجارت کے ماحصل سے(یعنی منافع سے)۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع