30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فتاوٰی غیاثیہ ٍمیں ہے:
|
الاتری انہم لو تعاملوا علی بیع الخمر اوعلی الربا لایفتی بالحل [1]۔ |
کیا دیکھ نہیں ر ہے کہ اگر لوگ شراب فروخت یا سود کے معاملات مروج کرلیں تو حلال ہونے کا فتوٰی نہ دیا جائے گا۔(ت) |
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
مابال رجال یشتروطون شروطا لیست فی کتاب اﷲ ماکان من شرط لیس فی کتاب اﷲ فہو باطل،وان کان مائۃ شرط فقضاء اﷲ احق وشرط اﷲ اوثق،رواہ الشیخاں عن ام المؤمنین رضی اﷲ تعالٰی عنہما [2]۔ |
لوگوں کوکیا ہوا کہ وہ ایسی شرطیں بناتے ہیں جو کتاب اﷲ میں نہیں ہیں اور جو شرط کتاب اﷲ کی رو سے جائز نہ ہو وہ باطل اگر چہ سو شرطیں ہوں اﷲ تعالٰی کا فیصلہ حق ہے اور اﷲ تعالٰی کی جائز کردہ شرط حق ہے،اس کو شیخین(بخاری ومسلم)نے ام المومنین عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کیاہے۔(ت) |
درمختار میں ہے:
|
تفسد الاجارہ بالشروط المخالفۃ لمقتضی العقد [3] |
ایسی شرائط اجارہ کو فاسد کردیتی ہیں جومقتضی کے مخالف ہوں۔ (ت) |
اسی میں ہے:
|
ان فسدت بجہالۃ المسمی وبعدم التسمیۃ وجب اجر المثل باستیقاء المنفعۃ بالغاما بلغ والا تفسد بہما بل بالشروط او |
اگر اجارہ شیئ کی جہالت اور عدم ذکر کی وجہ سے فاسد ہو تو منافع حاصل کرنے پر مثلی اجرت لازم ہوگی خواہ جتنی بھی ہو ورنہ ان دونوں صورتوں میں بلکہ ایسی دیگر شرائط سے بھی فاسد ہوگا یا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع