30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لینزجرثم یعیدہ الحاکم الیہ الا ان یاخذہ الحاکم لنفسہ اولبیت المال۔کما یتوھمہ الظلمۃ۔اذا لایجوز لاحد من المسلمین اخذ مال احد بغیر سبب شرعی [1]۔ |
تاکہ وہ جرم سے باز آجائے او رپھر حاکم مال واپس کردے یہ معنی نہیں کہ حاکم اس مال کو اپنے لئے یا بیت المال کے لئے وصول کرے جیسا کہ ظالم لوگوں نے خیال کررکھا ہے کیونکہ کسی مسلمان کو شرعی وجہ کے بغیر کسی کا مال لینا جائز نہیں ہے۔(ت) |
شرح معانی الاثار امام طحاوی پھر مجتبٰی پھر ابن عابدین میں ہے:
|
التعزیر بالمال کان فی ابتداء الاسلام ثم نسخ [2]۔ |
تعزیر بالمال ابتداء اسلام میں جائز تھی پھر منسوخ ہوگئی۔ (ت) |
شرح ہدایہ امام عینی میں ہے:العمل بالمنسوخ حرام [3](منسوخ پر عمل حرام ہے۔ت)درمختارمیں ہے:
|
یقیمہ کل مسلم حال مباشرۃ المعصیۃ وبعدہ لیس ذٰلك لغیر الحاکم والزوج والمولٰی[4]. |
گناہ میں مشغول کو ہر مسلمان تعزیر کرسکتاہے اور بعد میں حاکم،خاوند آقائے غیر کو یہ حق نہیں ہے۔(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
یقیمہ ای التعزیر الواجب حقا ﷲ تعالٰی بخلاف التعزیر الذی یجب حقا للعبد فانہ لتوقفہ علی الدعوی لایقیمہ الا الحاکم الا ان یحکما فیہ اھ فتح [5]۔ |
"ہر مسلمان تعزیر قائم کرسکتاہے"کا مطلب یہ ہے وہ تعزیر جو اﷲ تعالٰی کے حق پر واجب ہوبخلاف اس تعزیر کے جو بندے کے حق پر واجب ہو کیونکہ وہ بندے کے دعوٰی پر موقوف ہوتی ہے اس کو حاکم کے سوا کوئی نہیں قائم کرسکتا الایہ کہ دونون فریق اس کے لئے کسی کو ثالث بنالیں اھ فتح(ت) |
[1] ردالمحتار کتاب الحدود باب التعزیر داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۱۷۸
[2] ردالمحتار کتاب الحدود باب التعزیر داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۱۷۹
[3] البنایۃ فی شروح الہدایۃ
[4] درمختار کتاب الحدود باب التعزیر مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۶۷
[5] ردالمحتار کتاب الحدود باب التعزیر دارحیاء الترا ث العربی بیروت ۳/ ۱۸۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع