دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 19 | فتاوی رضویہ جلد ۱۹

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۹

ہیں بعد میں اگر ایسے ملازم ان قواعد کی خلاف ورزی کرکے ملازمت بلا اطلاع چھوڑ کرچلے جائیں،یا کوئی ایسا امر کریں جو قواعد مذکورہ کے خلاف ہو جس کو منظور کرچکے ہوں تو ایسے ملازمین کے کارگردگی کی تنخواہ ضبط کرلینے اور نہ دینے کا مجلس مذکورہ کو شرعًا اختیار ہوگا یانہیں؟ اور ایسے قواعد ہر ایك مجلس انجمن مدرسہ مکاتب اسلامی میں مندرج ہیں،رائج ہیں۔کیا یہ شرعًا بھی درست ہے اور قابل تعمیل ہے یا نہیں؟ ملازمین کی طر ف سے حجت کی جاتی ہے کہ ان کی کارروائی کی تنخواہ ان کا حق واجبی ہے،اور وہ کسی طرح رکھ لینا شرعا جائز نہیں ہوسکتا،براہ کرم ان کے جواب سے بادلہ شرعیہ بہت جلد مطلع فرمائیں،

المستفتیان:سلیم اﷲ جنرل سیکریٹری،تاج الدین احمد سیکرٹری،نوربخش سیکرٹری۔

الجواب:

مدرسین وامثالہم اجیر خاص ہیں،اور اجیر خاص پر وقت مقررہ معہود میں تسلیم نفس لازم ہے،اور اسی سے وہ اجرت کا مستحق ہوتاہے اگر چہ کام نہ ہو،مثلا مدرسین وقت معہود پر مہینہ بھر برابرحاضر رہا،اور طالب علم کوئی نہ تھا کہ سبق پڑھتا،مدرس کی تنخواہ واجب ہوگئی،ہاں اگر تسلیم نفس میں کمی کرے مثلا بلارخصت چلا گیا،یا رخصت سے زیادہ دن لگائے،یا مدرسہ کاوقت چھ گھنٹے تھا،اس نے پانچ گھنٹے دئے،یا حاضر تو آیا لیکن وقت مقرر خدمت مفوضہ کے سوا اور کسی اپنے ذاتی کام اگر چہ نماز نفل یادوسرے شخص کے کاموں میں صرف کیا کہ اس سے بھی تسلیم منتقض ہوگئی،یونہی اگر آتا اور خالی باتیں کرتا چلا جاتا ہے۔طلبہ حاضر ہیں اور پڑھاتا نہیں کہ اگرچہ اجرت کا م کی نہیں تسلیم نفس کی ہے،مگریہ منع نفس ہے،نہ کہ تسلیم،بہر حال جس قدر تسلیم نفس میں کمی کی ہے اتنی تنخواہ وضع ہوگی،معمولی تعطیلیں مثلا جمعہ،و عیدین ورمضان المبارك کی،یا جہاں مدارس میں سہ شنبہ کی چھٹی بھی معمول ہے،وہاں یہ بھی اس حکم سے مستثنٰی ہیں کہ ان ایام میں بے تسلیم نفس بھی مستحق تنخواہ ہے،سوا اس کے او رکسی صور ت میں تنخواہ کل یا بعض ضبط نہیں ہوسکتی،تسلیم نفس کامل کرکے اوربات میں باوصف قبول واقرار خلاف ورزی غایت یہ کہ جرم ہو،جرم کی تعزیر مالی جائز نہیں کہ منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل حرام،معہذا حقوق العباد میں مطلقا اور حقوق اﷲ میں جرم کرچکنے کے بعد تعزیر کا اختیار صور معدودہ کے سوا قاضی شرع کوہے نہ عام لوگوں کو اور امر ناجائز رائج ہو جانے سے جائز نہیں ہوسکتا،یونہی ملازمت بلااطلاع چھوڑ کر چلاجانا اس وقت تنخواہ قطع کرے گا نہ تنخواہ واجب شدہ کوساقط اور اس پرکسی تاوان کی شرط کرلینی مثلا نوکری چھوڑناچاہے تو اتنے دنوں پہلے سے اطلاع دے،ورنہ اتنی تنخواہ ضبط ہوگی یہ سب باطل وخلاف شرع مطہر ہے،پھر اگر اس قسم کی شرطیں عقد اجارہ میں لگائی گئیں جیساکہ بیان سوال سے


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن