30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوتاہے اور بینك میں روپیہ کالین دین ہے،روپیہ سود پر جو کہ بینك کو دیتے ہیں اور ایسے ہی جوکہ بینك سے لیتے ہیں،ان دونوں صورتوں میں سودکا برتاؤ ہے،اوریہی قرضہ پر سود چلاتے ہیں فدوی کی یہ عرض خدمت شریف ہے کہ جبکہ شیخ صاحب کے یہاں سو دکا لین دین ہے،ایسی صورت میں ایسے شخص کے کارخانہ میں نوکری کا حکم خدا ورسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے نزدیك کیا ہے،اگر اجازت ہے تو اس کی بھی دلیل ارقام فرمائیں،اگر ناجائز ہے اس کی وجہ بھی فرمادیں،جب سے مجھ کو یہ معلوم ہوا ہے کہ اس کارخانہ کے مالك کے یہاں سود کالین دین ہے میرا دل ایك منٹ ٹھہرنے کونہیں چاہتا ہے،اسی وجہ سے خدمت میں گزارش کی گئی خدا چاہے جیسا ارشاد فرمادیں گے اسی پر عمل کیا جائے گا۔
اور ایك یہ دریافت کرناہے کہ وکیلوں کے یہاں محرری کرنا جائز ہے یانہیں ہے،ان کے یہاں بھی مقدمات رجوع سود کے ہوتے اور بلا سود کے بھی ہوتے ہیں،ایك میر ے علم میں حافظ عبدالرشید،وکیل ہیں،وہ کہتے ہیں جوکام بلا سو د کا ہوا کرے گا وہ تم سے کرالیاکروں گا،اور سودی دعوٰی میرا دوسرا محرر کرلیا کرے گا،مگر شرعًا جیساحکم ہو ارشاد فرمائیں۔بینوا توجروا
الجواب:
جس کے پاس مال حلال وحرام مختلط ہو۔مثلا تجارت بھی کرتاہے اور سود بھی لیتا ہے اس کے یہاں کی نوکری شرعًا جائز ہے،اور جو کچھ بھی وہ دے اس کے لینے میں حرج نہیں،جب تك یہ معلوم نہ ہو کہ یہ چیز جو ہمیں دے رہا ہے،بعینہ مال حرام ہے۔
|
بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ کذا فی الہندیۃ [1] عن الظہیریۃ عن الامام محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
جب کسی چیز کے حرام ہونے کا ہمیں علم نہ ہو یہی ہمارا موقف ہے،یوں ہندیہ میں ذخیرہ سے امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی علیہ کے حوالے سے منقول ہے۔(ت) |
وکلاء کے یہاں محرری میں کچھ خیر نہیں،سودی معاملہ کے سوا ان کے یہاں اور معاملات بھی اکثر خلاف شرع ہوتے ہیں،اکثر دعاوی باطلہ ہوتے ہیں جن کو وہ حق کرنا چاہتے ہیں،جو حق ہوتے ہیں انھیں بھی با طل کی آمیزش بغیر اپنے لئے سرسبزی نہیں جانتے،غرض ان کے معاملات ناحق سے شاذونادر ہی شاید خالی ہوتے ہیں،اور تحریراعانت ہے،اور اﷲ عزوجل فرماتاہے:
|
" وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثْمِ وَالْعُدْوٰنِ ۪"[2]۔ |
گناہ اور زیادتی پر تعاو ن نہ کرو۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع