30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دیوبندی عقیدے والے ضرور کفار مرتدین ہیں جن کے کفر وارتداد پر علمائے کرام حرمین شریفین نے فتوے دئے،کہ حسام الحرمین وتمہید ایمان بایات قرآن میں شائع ہوئے،مگریہ ضرور نہیں کہ کافر جو بات کہے باطل ہو،نصارٰی کہتے ہیں یہود کادین باطل ہے،اور ان کایہ کہنا حق ہے،یہود کہتے ہیں نصاری کادین باطل ہے،اور ان کا یہ کہنا حق ہے،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۱: مسئولہ ظہور محمد صاحب از شہر کہنہ ۲۸ محرم ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك اراضی کے چند مالك وزمیندار ہیں،ان میں سے ایك نمبردار ہے،کل کارروائی تحصیل وصول وغیرہ کی نمبردار کرکے تقسیم کردیتاہے،چنانچہ ایك اراضی کاکرایہ نامہ نمبردار نے ایك سال کے لئے ایك شخص کولکھ دیا،کرایہ دار ونمبردا ر کی مرضی سے کرایہ نامہ میں کرایہ دار نے یہ بات تحریر کرادی کہ در صورت اراضی خالی پڑی رہنے کے بھی کرایہ مقررہ ادا کرے گا،اب وہ کرایہ دار بعد ۹ ماہ کے کہتاہے کہ اراضی میں نے خالی کردی،تین ماہ کا کرایہ مجھ سے نہ لیا جائے،ایسی صورت میں نمبردار کو کرایہ دار سے ان تین ماہ کا کرایہ کہ جس سے کرایہ دار کو نفع نہیں پہنچا ہے،لینا چاہئے یا نہیں؟ دوسرے یہ کہ نمبردار کو بلامنشاء اپنے شرکاء یا ان کے کرایہ دار کو تین ماہ مذکور کا کرایہ اپنے اختیار سے چھوڑدینا چاہئے یانہیں؟
الجواب:
جبکہ کرایہ دار نے زمین باختیار خود خالی چھوڑی،تو اس پر ان تین ماہ کا بھی کرایہ واجب ہے،نمبردار کو اگر شرکاء کی طرف سے کرایہ پر دینے کا اختیاردیا گیا ہے تو وہ کرایہ سب کی طرف سے ہوا تین ماہ کاکرایہ اگر وہ کرایہ دار پر چھوڑدے گا،اور شریکوں کے حصہ کاکرایہ اسے دینا پڑے گا،اور اگر شرکاء کی طرف سے اسے اختیار نہ دیا گیا،بطور خود بزعم خود نمبرداری اس نے ایسا تصرف کیا تو اور شرکاء کے حصوں کا غاصب ہوا،مگر از انجا کہ عقد اجارہ اس نے کیا ہے،کرایہ کامالك وہی ہوگا،اگر چہ حصہ شرکاء کے کرایہ میں ملك خبیث ہوگی،اس صورت میں وہ تین ماہ کا کرایہ باختیار خود چھوڑ سکتاہے،اور اس صورت میں اسے لازم ہے کہ باقی شرکاء کے حصے کاکرایہ یا تو ان کو دے اور یہی بہتر ہے یا فقراء پر تصدق کرے،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۲: مسئولہ منشی مجید حسن صاحب از جنگل بن بٹول ڈاکخانہ بڑہا پور ضلع بجنور ۳۰ محرم الحرام ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شیخ حبیب اﷲ صاحب کے یہاں کام ہنڈی کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع