30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۱۷۹: از گونڈہ محلہ نبی گنج مکان مولوی نوازش احمد صاحب مرسلہ حافظ محمد اسحق
کوئی طوائف جو اپنے پیشہ میں مبتلا ہے،قرآن شریف پڑھنے یا پڑھوانے کی خواہش رکھتی ہے،اور اس کے عوض میں استاد معلم حافظ ناظرہ خوان کی کچھ خدمت کرے تو پیسہ جو طوائف پیشہ کا قطعًا حرام ہے،لینا استاد معلم کو جائز ہے یانہیں؟ اور ایسے حافظ وقاری کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یانہیں؟
الجواب:
عالمگیریہ وغیرہا میں تصریح ہے کہ یہ روپیہ جو اجرت زنایا غنا کا ان لوگوں کے پاس ہوتاہے وہ ان کے ہاتھ میں مثل غصب کے ہے،وہ کسی شیئ کے معاوضہ میں لینا جائز نہیں۔امام اگر اس پر اصرار کرے تو اسے امامت سے معزول کرنا چاہئے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۰: ا زنواکھالی ڈاکخانہ رائے پور ملك بنگالہ مسئولہ فضل حق صاحب ۱۹ محرم الحرام ۱۳۳۲ھ
علمائے کرام فضلائے عظام کی خدمت میں التما س یہ ہے کہ یہ استیجار علی الطاعات خصوصا تلاوت قرآن وتسبیح وتہلیل،ایصال ثواب کی نیت سے ارواح موتی کے واسطے ایك مدت دراز سے رواج چلاآرہا ہے،فی الحال دیوبندی محصل بعض علماء نے حرام کہہ کر اٹھالینے میں بڑے کوشاں ہیں،دریافت طلب یہ امر ہے کہ فی زماننا استیجار علی الطاعات خصوصا تلاوت قرآن وتسبیح وتہلیل پر اجرت لینا حسب الحکم کتب فقہیہ جائز ہے یانہیں؟ برتقدیر جواز شامی وبرکوی وغیرہما رحمۃ اﷲ علیہم نے اپنی تحریرات جو حرمت استیجار علی التلاوۃ والتسبیح کو ثابت فرمائے ہیں اس کاکیا جواب ہے،مترصد کہ حضور از راہ مہربانی استفتاء ہذا کا جواب مع اپنے مہر اور متعلقین علماء کی مہر ودستخط سے مزین کرکے جلد تکلیف ارسال منظور فرمائیں
الجواب:حق یہی ہے کہ استیجار علی الطاعات حرام وباطل ہے،سوا تعلیم علوم دین واذان وامامت وغیرہا بعض امور کے کہ متاخرین نے بضرورت فتوائے جوازدیا تلاوت قرآن وتسبیح وتہلیل پر اجرت لینا دینا دونوں ناجائز وحرام ہیں
|
کما حققہ المولی المحقق السید امین الدین الشامی رحمہ اﷲ تعالٰی فی شفاء العلیل [1]۔ |
جیسا کہ محقق امین الدین شامی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے شفاء العلیل میں تحقیق فرمائی ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع