30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۲)جو گرد اور قانون گولینا پسند کرتے ہیں،ان کو حسب ذیل آمدنی ہوتی ہے یہ آمدنی جائز ہے یا نہیں؟
(۱)علاوہ تنخواہ معینہ کے پٹواریاں بعوض اس رعایت کے کہ ان کے کام میں جو تاخیر خلاف ان کے قواعد کے ظہور میں آئیں اس کی رعایت کی جائے،اور ان کو جرمانہ سے بچایا جائے کچھ ماہوار یا سال تمام پردیتے ہیں،لیکن سب کام سرکاری میعاد انتہائی کے اندر ختم کرلیاجاتاہے،
(۲)تصدیق پٹہ وقبولیت میں مقر کچھ حقوق خوشی سے دیا کرتے ہیں
(۳)تحقیقات موقع میں جس فریق کے حقوق فائق متصور اور امیدکامیابی معلوم ہوتی ہے اس سے بعوض تحریر رپورٹ واجبی کے جو کچھ وہ دیتاہے لیا جاتاہے۔
(۴)دیہات میں منجابت زمیندار مقدم،وپدھان نذر دیتے ہیں،بلحاظ افسری بلااس وقت کسی کام کے۔
(۳)اس تنخواہ مندرجہ سوال اول وآمدنی مندرجہ سوال دوم کے اندوختہ سے مصارف حج وزیارت ودیگر ضروریات دینی جائزہے یانہیں،اور بحالت عدم جواز کوئی طریقہ اس روپے سے ادائے کارروائی مندرجہ بالا کا ہوسکتاہے،مثلا تبادلہ اس روپے کا اگر اشرفی ہائے خزانہ سے کرلیا جائے وغیرہ۔بینوا توجروا
الجواب:
(۱)اگر ان کاموں کو دیانت وامانت سے انجام دے،اور ان میں جو ظلم اور لوگ بڑھالیتے ہیں ان سے مخلوق کو بچانے کی نیت سے یہ نوکری کرے اور اس سے زائد اور کوئی ناجائز کام اسے کرنا نہ ہو،تو یہ نوکری جائز ہے بلکہ خلق پر دفع ظلم ودیگر اہلکاران کی نیت پر ثواب پائے گا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲)یہ سب مدین رشوت وحرام ہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۳)تنخواہ بشرائط مذکورہ حلال ہے،اور اس سے ہر نیك کام جائز ہے،اور آمدنی سوال دوم حرام ہے اور اسے کسی کام میں صرف کرنا جائز نہیں،سوا اس کے کہ جن سے لی ہے ان کو واپس دے،وہ نہ رہے ہوں تو ان کے وارثوں کو دے،پتہ نہ چلے تو فقیروں پر تصدق کردے،ایسی آمدنی والا اگر حج وغیرہ چاہے تو روپیہ بے سودی قرض لے لے،وہ حلال ہوگا،اور وہ قرض اگرچہ اس مجلس میں اپنے ناپاك روپے سے ادا کردے گا تو قرض لیئے ہوئے روپے میں خباثت نہ آئے گی،واﷲ تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع