30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ٹھہرا تھا تو ہر ختم ماہ پر زید کو دکان چھوڑدینے کا اختیار ہوگا،خواہ پہلے مہینے کے ختم پر چھوڑ دے خواہ کسی اور مہینے کے ختم پر،اور جس مہینے کے شروع میں ایك دن گزر جائے گا وہ مہینہ بھر پھر اجارہ صحیح ہوجائے گا۔اور زید کو تنہا اس کے فسخ کااختیار نہ ہوگا۔اور اگر سالانہ کرایہ ٹھہرا تھا تو بعد ختم سال زید کو دکان چھوڑنے کا اختیار ہوگا۔یوں سال دو سال یا ماہ دو ماہ جس قدر مدت تك دکان اس کے اجارہ میں رہے گی،اس قدر کرایہ ا س پر لازم آئے گا،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۳:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اراضی کاشت اپنی بعوض مبلغ ایك سو روپے کے رہن رکھی،اور مرتہن سے یہ شرط ٹھہر ی کہ اراضی تم اپنی کاشت میں رکھو،اور اس کی پیداوار سے لگان اراضی زمیندار کو ادا کرتے رہو،بقیہ منافع تم لے لیا کرو،اور اگر کم پیدا وار ہو یا بالکل نہ ہو،تو مجھ سے کچھ تعلق نہیں،اس کا نفع نقصان سب تمھارے ذمہ ہے،تو اب مرتہن اس اراضی کو خود کاشت کرے یا کسی ذیلی کاشتکار سے کاشت کرائے،اوربعد ادائے لگان جو کچھ منافع ہو وہ منافع سود ہوا یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
اگر زید نے بہ اجازت زمیندار کہ مالك زمین ہے،یہ زمین رہن رکھی تو رہن صحیح ہوگیا،زمین زید کے اجارہ سے نکل گئی،
|
وکان من باب رھن المستعار للرھن حیث یجوز،قال فی الہندیۃ عن البدائع،یجوز رھن مال الغیر باذنہ کما لوا ستعار من انسان لیرھنہ بدین علی المستعیر [1]۔ |
تویہ رہن کے لئے طلب کردہ کا رہن ہے،یہ جائز ہے،ہندیہ میں بدائع کے حوالے سے فرمایا غیر کا مال اس کی اجازت سے رہن رکھنا جائز ہے جیسے کوئی شخص اپنے قرض میں رہن رکھنے کے لیے کسی سے کوئی چیز عاریۃً لے۔(ت) |
اوراس کا یہ کہنا کہ زمین اپنی کاشت میں رکھو،زمیندار کو لگان دیتے رہو،اجارہ فضولی کا ہے،اگر زمین دار نے اسے جائز رکھا اجارہ نافذ ہوگیا،اور جب مرتہن نے اس پر کاشتکارانہ قبضہ کیا رہن باطل ہوگیا،زید کو کچھ تعلق نہ رہا مرتہن اصلی کاشتکار ہوگیا،جو منافع بچے وہ اس کے لئے حلال ہیں،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع