30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کس قدر کرایہ ادا کرنا واجب ہے؟ بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں اگر ماہوار کرایہ قرار پایا تھا کہ ہر مہینے پر مثلا دس روپے جب تو اجارہ ایك مہینہ کیلئے صحیح ونافذ تھا۔اور باقی مہینوں کے لئے بوجہ عدم تعیین مدت ہنوز معدوم،توجب تك یہ مہینہ ختم ہوکر دوسرے مہینے کی ایك رات ایك دن نہ ہوجائے دوسرے مہینے کا اجارہ ہی متحقق نہ ہوگا۔سال بھر کے توبارہ مہینے ہیں،درمختار میں ہے:
|
ان کان استاجرہ مشاہرۃ فانہا توجر لغیرہ اذا فرغ الشہر،ان لم یقبلہا لانعقادھا عندراس کل شہر [1]۔ |
اگر ماہانہ کرایہ پر لیا تو اس ماہ کے بعد دوسرے کو کرایہ پر دے سکتا ہے جبکہ پہلے نے دوسرے ماہ کو قبول نہ کیا ہو کیونکہ ماہانہ کرایہ ہرماہ کی ابتداء میں منعقد ہوتاہے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
(اٰجر حانوتاکل شہر بکذا صح فی واحد فقط)وفسد فی الباقی لجھا لتہا،واذا تم الشہر فلکل فسخہا بشرط حضورالاخر لانتہاء العقد الصحیح(وفی شہر سکنہ فی اولہ)ھو اللیلۃ الاولی ویومہا عرفا،وبہ یفتی (صح العقد فیہ)ایضا [2]۔ |
دکان فی ماہ مقرر اجارہ پر دی توپہلے ماہ میں صحیح ہے فقط اور باقی مہینوں کے لئے جہالت کی وجہ سے فاسد ہوگئی اور پہلامہینہ گزر جائے تو فریقین میں سے ایك کو دوسرے کی موجودگی میں فسخ کا حق ہے کیونکہ صحیح ختم ہوگیا ہے اور ماہانہ کرایہ پر لے کر ایك رات اور ایك دن سکونت کرلی یہ پہلی رات اور دن ہے،اسی پر فتوٰی ہے،تو اس نئے ماہ میں بھی عقد صحیح ہو جائے گا۔(ت) |
اس صورت میں تو سال بھر کا کرایہ مانگنا ظاہر ہے کہ صریح ظلم وحرام ہے،اور اگر سالانہ کرایہ قرار پاتاہو،اگر چہ ماہوار کی اجرت بھی بتادی گئی ہو،مثلا کہا یہ دکان ہر سال ساٹھ روپے کرائے پر تجھے دی،ہر مہینے پر پانچ روپے،تو اس تقدیر پر اگر چہ پہلے سال کے لئے اجارہ صحیح ہوگیا۔
|
فی الدرالمختار واذا اٰجرھا سنۃ |
درمختارمیں ہے اگر سالانہ کرایہ پر لیا تو صحیح |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع