30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فقہاء العصر [1]،قلت وقد تشرف الفقیر بمطالعتہا فوجدتہ بحمد اﷲ تعالٰی کفی وشفی وصفا ووفی فرحمنا اﷲ وایاہ والمسلمین بعبادہ الذین اصطفی،اٰمین! |
فقہاء عصرنے بھی تقریضات لکھی ہیں،میں کہتاہوں اس فقیر نے اس کے مطالعہ کا شر ف حاصل کیا ہے تو میں نے بحمداﷲ تعالٰی اس کوکافی،شافی اور بھرپور صاف پایا،تو اﷲ تعالٰی ہم پر اور ان پر،تما م مسلمانوں اور اپنے اہل دین بندوں پر رحم فرمائے،آمین !(ت) |
اور اجارہ جس طرح صریح عقد زبان سے ہوتاہے،عرفا شرط معروف ومعہود سے بھی ہوجاتاہے،مثلا پڑھنے پڑھوانے والوں نے زبان سےکچھ نہ کہا مگر جانتے ہیں کہ دینا ہوگا وہ سمجھ رہے ہیں کہ کچھ ملےگا۔انھوں نے اس طور پر پڑھا،انھوں نے اس نیت سے پڑھوایا،اجارہ ہوگیا،اور اب دو وجہ سے حرام ہوا،ایك تو طاعت پر اجارہ یہ خود حرام،دوسرے اجرت اگر عرفامعین نہیں تو اس کی جہالت سے اجارہ فاسد،یہ دوسرا حرام۔
|
ای ان الاجارۃ باطلۃ وعلی فرض الانعقاد فاسدۃ فللتحریم وجہان متعاقبان،وذٰلك لما نصوا قاطبۃ ان المعہود عرفا کالمشروط لفظا [2]۔ |
یعنی اجارہ باطل ہے اور فرض انعقاد پر وہ فاسد ہے تو یہ اس کے حرام ہونے کی یکے بعددیگرے دو وجہیں ہیں،اور یہ اس لئے کہ تمام فقہاء کی نص ہے کہ عرف میں مشہور ومسلم لفظوں میں مشروط کی طرح ہے۔(ت) |
پس اگر قرارداد کچھ نہ ہونہ ہواں لین دین معہود ہوتاہو توبعد کو بطور صلہ وحسن سلوك کچھ دے دیناجائز بلکہ حسن ہوتا،
|
"k ہَلْ جَزَآءُ الْاِحْسٰنِ اِلَّا الْاِحْسٰنُ ﴿ۚ۶۰﴾"[3] " وَاللہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیۡنَ﴿۱۳۴﴾ۚ "[4] |
احسان کی جزاء صرف احسان ہے اور اﷲ تعالٰی احسان کرنے والوں کو پسند فرماتاہے۔(ت) |
مگر جبکہ اس طریقہ کا وہاں عام رواج ہے تو صورت ثانیہ میں داخل ہوکر حرام محض ہے،اب اس کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع