30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بالحق عن عزیز الاکبر واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ |
کا علم اﷲ تعالٰی کے پاس ہے۔واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۱۷۰:ا زشہر میمن سنگھ ملك بنگالہ ڈاکخانہ پائکٹرا موضع کروا مرسلہ محمد زینت اللہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہمارے یہاں ملك بنگالہ میں جب کسی نے برائے ثواب رسانی اپنے میت کے مُلاؤں یاطباؤں سے قرآن شریف پڑھوایا،یابعدکوجوکچھ ان کو دیا جاتاہے وہ خود نہیں مانگےت،بلکہ خود پڑھوانے والا ان کو دیتاہے،یہ طریقہ ہمارے یہاں عام رواج ہے،تویہ رواج ہے،تویہ لینا دینا جائز ہے یانہیں؟ اگر جائز ہے تو کس طریقہ پر ہے؟ اور ایسے ہی بعد پڑھوانے مولود شریف کےجو کچھ دیاجاتاہے بغیر طلب کرے مولود خوااں کے یہ بھی جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا،بحوالہ کتب جواب عنایت ہوبادلیل۔
الجواب:
اصل یہ ہے کہ طاعت وعبادات پر اجرت لینا دینا(سوائے تعلیم قرآن عظیم وعلوم دین و اذان وامامت وغیرہا معدودے چنداشیاء کو جن پر اجارہ کرنا متاخرین نے بنا چاری ومجبوری بنظر حال زمانہ جائز رکھا)مطلقا حرام ہے،اور تلاوت قرآن عظیم بغرض ایصال ثواب وذکر شریف میلاد پاك حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ضرورت منجملہ عبادات وطاعت ہیں تو ان پر اجارہ بھی ضرور حرام ومحذور،
|
کما حققہ السید المحقق محمد بن عابدین الشامی فی رد المحتار علی الدرالمختار ولہ رحمہ اﷲ تعالٰی رسالۃ مستقلۃ فی تحقق المسئلۃ سماہا"شفاء العلیل وبل الغلیل فی حکم الوصیۃ بالختمات والتہالیل" قال واطلع علیہا محشی ھذا الکتاب(یعنی الدر)فقیہ عصرہ ووحید دھرہ السید احمد الطحطاوی مفتی مصر سابقا فکتب علیہا واثنی الثناء الجمیل فاﷲ یجزیہ الاجرا الجزیل وکتب علیہا غیرہ من |
سید محقق محمد بن عابدین شامی نے درمختار کے حاشیہ ردا لمحتار میں جیسا کہ اس کی تحقیق فرمائی،اس مسئلہ میں ان کا ایك مستقل رسالہ ہے جس کا نام"شفا العلیل وبل الغلیل فی حکم الوصیۃ بالختمات والتہالیل"رکھا ہے انھوں نے خود فرمایا کہ درمختار کے محشی اپنے زمانہ کے فقہیہ العصر،وحید دہر سید احمد طحطاوی سابق مفتی مصر نے اس رسالہ کا مطالعہ فرماکر اس پر تقریظ لکھی اور تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ ان کو اﷲ تعالٰی اجر عظیم سے نوازے،اور دیگر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع