30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الجحش،ومعلوم ان ارض النھر مع الماء لاتصلح للانتفاع غیر الاتنفاع بالماء وھواستہلاك العین فاذا لم تستقم فی لاصل فکیف یجوز فی التبع وما تقدم من الحیلۃ فانما ھو فیما اذا اٰجر ارضا حول الماء فانہا الصالحۃ للعطن فیحصل لہ الاجربوجہ جائز،وللمستاجر الماء والکلاء،فالحق ان الماشی علی الاصول فی اجارۃ البرکۃ والقناۃ والنہر من دون الارض،تسقی منہ ھو البطلان ونا ماذکر فی البزازیۃ وغیرھا من صورالجواز فلامساس لھابہ۔ولایمکن حمل مافی جامع المضمرات علی شیئ منہا،ولقد احسن اذ علل الافتاء بعموم للبلوٰی لابحصول الجواز بالتبع،فاذن ان عمل بقول بہ یفتی فلا شك ان قضیۃ اطلاق الجوازوھو الایسر،والاحوط مامر، فعلیہ فلیتقصر ھذا ماعندی والعلم |
پیش نظر یہ توجہی قطعاباطل ہے کیونکہ پانی والی نہر کی زیریں زمین فی الحال انتفاع کی صلاحیت نہیں رکھتی جس کو مستقل طور پر اجارہ پر دیا جائے،اسی قاعدہ کی بناء پر گھوڑی کا بچہ سواری کے لہئے اجارہ پر دینا ناجائز ہے پھر خالص پانی کا اجارہ ہوگا تو اس سے عین کو ہلاك کرنے پر اجارہ لازم آئیگا،نیز جب اصل نہر کی زمین کا اجارہ درست نہیں ہے تو اس سے تابع پانی کا کیسے جائز ہوگا اور گزشتہ حیلہ جواز وہ صرف اس صورت میں ہے کہ پانی والے حوض کے اردگرد والی زمین کو اجارہ پر حاصل کرے کیونکہ وہ فی الحال جانورں کو باندھنے اور رکھنے کے لئے قابل انتفاع ہے جس سے جائز طریقے پر اجرت حاصل ہوگی۔اور مستاجر کو پانی اور گھاس بالتبع حاصل ہوگا،اصول کے مطابق حق یہ ہے کہ جوہڑ،راجباہ اورنہرہ کے پانی کا اجارہ اس سے سیراب ہونے والی زمین کے اجارہ کے بغیر باطل ہے،اور بزازیہ وغیرہ میں مذکور وجہ جواز سے اس کا کوئی علاقہ نہیں ہے اورنہ ہی مضمرات کے بیان کو کسی طرح اس پر محمول کیا جاسکتاہے تو بہت اچھا کیا کہ فتوٰی جواز کی وجہ عموم بلوٰی کو بنایا ہے بالتبع حصول کے جواز کو نہ بنایا،تو اب اس کے قول بہ یفتی(اسی پر فتوٰی ہے)پر اگر عمل کیا جائے تو مطلق جواز کی راہ آسان ہے،او ر زیادہ احتیاط جو پہلے گزری ہے،تو اسی کو اپنایا جائے،یہ مذکورہ بحث میری ہے جبکہ حق |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع