30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
رفع القصب،وقطع الحطب،اولیسقی ارضہ،او غنمہ، منہا وکذا اجارۃ المرعی [1] اھ،وفی الدرالمختار عن البحر الرائق لم تجز اجارۃ برکۃ لیصاد منہا السمك [2] اھ وفی ردالمحتار نقل فی البحر عن الایضاح عدم جواز ہا قال و مافی الایضاح عدم جوازہا قال و مافی الایضاح بالقواعد الفقہیۃ الیق لعدم الصحۃ [3]،(ملخصا) |
بھی جائز نہیں اھ اور درمختارمیں بحرالرائق سے منقول ہے کہ جوہڑ کا اجارہ مچھلی پکڑنے کے لئے ناجائز ہے،اھ اور ردالمحتار میں بحر سے انھوں نے ایضاح میں اس کا عام جواز نقل کیا ہے او ر انھوں نے کہا کہ ایضاح کا بیان قواعد فقہیہ کے مطابق عدم جواز کے زیادہ مناسب ہے۔(ملخصا)(ت) |
اور جامع المضمرات میں جواز پر فتوٰی دیا،
|
فی الدرالمختاروجاز اجارۃ القناۃ والنہر مع الماء بہ یفتی لعموم البلوی مضمرات انتہی [4]۔ |
درمختار میں مضمرات سے منقول ہے کہ نہر اور راجباہ کوپانی سمیت اجارہ پر دینا ہے،عموم بلوٰی کی وجہ سے اسی پرفتوٰی ہے اھ۔(ت) |
اور احوط یہ ہے کہ تالاب کے کنارے کی چند گز زمین محدود معین کرائے پر دے اور پانی وغیرہ سے انتفاع مبارك کردے،یوں اسے کرایہ ا ور اسے پانی مچھلی،گھاس جائز طور پر مل جائیں گے،
|
فی البزازیۃ بعد ما قدمناہ عنہا والحیلۃ فی الکل ان یستاجر موضعا معلوما لعطن الماشیۃ ویبیع الماء و المرعی [5] الخ۔ |
بزازیہ میں ہماری نقل کردہ عبارت کے بعد فرمایا ان سب چیزوں میں جواز کا حیلہ یہ ہے کہ وہاں جانور کے باڑہ کے لئے جگہ کو اجارہ پر دے اور حوض وغیرہ کا پانی اور چراگاہ کو جانوروں کے لئے مباح کردے۔(ت) |
یازراعت کو کنارے کی زمین اور تالاب جس سے اس زمین کو پانی دیا جائے سب ملاکر کرائے پر
[1] فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الاجارات الفصل االثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۴۷۔۴۸
[2] درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴
[3] ردالمحتار کتاب البیوع باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۰۷
[4] درمختار کتا ب الاجارات باب الاجارۃ الفاسدۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۸۰
[5] فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوی الہندی کتاب الاجارات الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۴۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع