30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
علی الشرط ولا شیئ للعامل ان لم یخرج شیئ فی الصحیحۃ [1] فی ردالمحتار قبیل ہذا قولہ العامل المراد منہ من لابذر منہ[2] اھ وفیہ ھٰھنا وانمالم یکن لہ شیئ لانہ یستحقہ شرکۃ،ولا شرکۃ فی غیر المخارج بخلاف ما اذا فسدت لان اجر المثل فی الذمۃ،لاتفوت الذمۃ بعدم الخارج ہدایۃ [3]۔ |
مشروط تناسب کے مطابق حصہ ہوگا،اورا گر صحیح مزارعت میں کوئی پیدا وار نہ ہوئی تو کاشتکار کو کچھ نہ ملے گا الخ،اور اس سے تھوڑا پہلے ردالمحتار میں ہے،ماتن کا قول"العامل"اس سے مراد وہ فریق ہے جس کا بیچ نہ ہوا اھ،او راسی میں اس مقام پر ہے کہ اس کو اس لئے کچھ نہ ملے گا کیونکہ وہ پیداوار میں شرکت کا حقدار تھا اور جب پیداوار نہ ہوئی تو اس کی شرکت نہ ہوئی،اس کے برخلاف وہ صورت جس میں مزارعت فاسد ہوکیونکہ کاشتکار کے ذمہ پر زمین کی مثلی اجرت ہوگی وہاں اگر پیداوار نہ ہو تو بھی اجرت سے اس کے ذمہ میں ہوگی۔ہدایہ(ت) |
یہ حکم کہ ہم نے بیان کیا اسی حالت میں ہوتا جب یہ اجارہ صحیح طور پر کیا جاتا،اب کہ فاسد ہوا،اس کا فسخ واجب ہے،اور پس از فسخ جو سال گزرے اس میں حکم یہ ہے کہ پیداوار ہویا نہ ہو بہرحال مالك زمین کو اس کی زمین کا اجر مثل ملے گا،جوچار من دھان کی قیمت سے زیادہ نہ ہو،مثلا اتنی زمین کی اجرت مثل ایك سال کی دس روپے ہوں،اور چارمن دھان چار روپے کوآتے ہوں توچار ہی روپے دئیے جائیں گے،زیادہ نہیں،اور زمین کی اجرت مثلا دوروپے ہوں اور دھان چار روپے کے تو دوہی ملیں گے،چار نہ ہوں گے،
|
فی الدرالمختار متی فسدت فالخارج لرب البذر و للاٰخر اجر مثل ارضہ و لایذاد علی شرط وان لم یخرج شیئ فی الفاسدۃ فان کان البذر من العامل فعلیہ اجر مثل |
درمختارمیں ہے کہ جب مزارعت فاسد ہو تو پیداوار کا مالك بیچ والا ہوگا اور دوسرے فریق کو مثلی اُجرت ملے گی تاہم یہ اجرت عقد میں طے شدہ سے زائد نہ ہوگی اوراگر فاسد مزارعت میں کوئی پیداوار نہ ہوئی تو اگر بیچ عامل |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع