30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ان الثنیا المذکورۃ بقولہ"الا ان یکون استأجرھا الخ"لایتعلق بما ھنا فانہ و ان راٰہ لم یرض بہ کان شارطہ ان یبنی الجدران واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اصح یہی ہے،اھ ملخصا۔میں کہتاہوں ظاہر یہ ہےمگر دیکھ کرلیا ہو"الخ والااستثناء مذکور اس مسئلہ سے متعلق نہیں کیونکہ اگر دیکھ لیا ہو تو راضی نہ ہوا بلکہ اس نے اس وقت مالك سے مرمت کی شرط کرکے لیا ہو تو مالك کے انکار پر فتح کا اختیار ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۱۶۵: ۲۲ جمادی الاولٰی ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رنڈی کوجوکسبی ہےمکان کرایہ پردیناجائز ہےیا نہیں؟
الجواب:
ہرگز نہ دیاجائے،اگر وہ زانیہ ہے اوراگر صرف ناچ گانےکا پیشہ رکھتی ہےتو حرج نہیں کہ فاسِقہ ہے اور فاسق کو مکان اجارہ پردینے میں کچھ حرج نہیں بخلاف زنا پیشہ کہ وہ مکان اس لئے لیا جاتاہے کہ اس میں زنا ہو۔والعیاذ باﷲ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۶۶: از بنگالہ ۲۶ رجب ۱۳۲۰ھ
|
ماقولکم دام طولکم فی العہدۃ الرائجۃ فی بلادنا التی یقال لہا سب رجستراری"کیف ھی فی نفسہا نظرا الی ماھولازم لہا الاٰن من حفظ صکوك الربا،وغیرھا من العقود الفاسدۃ المحرمۃ شرعا،و لایمکن لاحد ان یقوم بہاھھنا الاحتراز عن ذٰلك فہل ھی حرام ام لا۔بینوا توجروا |
آپ کی درازی عمر ہو،آپ کا ارشاد کیا ہے۔مروجہ سب رجسٹراری جس کے لوازمات میں سود کی رسیدات اور دیگر شرعی طور پر حرام اور فاسد عقود کے ریکارڈ کی حفاظت ہے،ان لوازمات کے پیش نظر اس عہد ہ کا کیا حکم ہے جبکہ اس عہدہ پر فائذ کوئی شخص مذکورہ مفاسد سے بچ نہیں سکتا ______ بینوا توجروا |
الجواب:
|
نعم ھی حرام شرعا والحال ماوصف فانہا احدی الشہادات علی تلك الصکوک، |
ہاں یہ شرعا حرام ہے جبکہ صورت وہی ہے جو ذکر کی ہے کیونکہ یہ عہدہ ان سودی چیکوں ورسیدوں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع