30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور اس کا مضر ومخل منفعت مقصودہ ہونا ظاہر وصریح ہے،تومذہب اصح ومعتمد پر زید باختیار خود اس اجارے کو فسخ کرسکتاتھا اگر چہ عمرونہ مانے،یہاں جبکہ خود عمرو نے کنجی مانگ لی اور زید نے دے دی،جب عمرو نے کہا میں کرایہ سال بھر کالے لوں گا،اس نے وہ جواب دیا جس سے صاف ظاہرہوا کہ اس وقت اجارہ باقی نہیں رکھتا بعد دیواریں بنوادینے کے اس کا دعدہ کرتاہے،اور عمرو اس جواب پرخاموش ہورہا،تو ہرطرح اجارہ فسخ ہوگیا،اور روز سپردگی کلید سے زید کے ذمہ کرایہ لازم نہ رہا۔
|
فی ردالمحتار عن حاشیۃ الاشباہ للسید ابی السعود عن العلامۃ البیری،الحاصل ان کل عذر لایمکن معہ استیفاء المعقود علیہ الا بضررہ یلحقہ فی نفسہ اومالہ یثبت لہ حق الفسخ [1]۔ |
ردالمحتار میں سید ابوسعود کے حاشیہ الاشباہ سے بحوالہ علامہ بیری منقول ہے،حاصل یہ ہے کہ ایسا عذر جس کی وجہ سے معقود علیہ بغیر ضرر پورانہ ہو سکتاہو خواہ ضرر جان کا ہو یا مال کا ہو تو عذر والے کو اس عقد کے فسخ کا حق ہے۔(ت) |
درمختارمیں ہے:
|
عمارۃ الدرالمستأجرۃ وتطیینہا و اصلاح المیزاب و ما کان من البناء علی رب الدار وکذا کل مایخل فان ابی صاحبہا ان یفعل کان للمستاجر ان یخرج منہا، الا ان یکون استأجرھا وھی کذٰلك وقدراٰہا لرضاہ بالعیب وفی الجوہرۃ ولہ ان یتفرد بالفسخ بلا قضا، قلت و فی حاشیۃ الاشباہ معزیا للنہایۃ۔ان العذر ظاھرایتفردوان مشتبہا لاوھو الاصح[2] ملخصا۔ قلت وظاھر |
کرایہ والے مکان کی تعمیر،لپائی اور پرنالہ اور جو بھی مرمت مکان کی عمارت کی اصلاح کے لئے ہو وہ مالك مکان کے ذمہ ہے،اگر وہ اس سے انکارکرے تو کرایہ دارکو حق ہےکہ وہ مکان چھوڑ دے،ہاں اگر کرایہ دار نے اس حالت میں دیکھ کر لیا تو اس کی یہ حق نہیں کیونکہ وہ عیب دیکھنے کے باجود لینے پر راضی ہو ا تھا او رجوہرہ میں ہے کہ کرایہ دار قضاء کے بغیر خود عقد کو فسخ کرسکتاہے،میں کہتاہوں،اور الاشباہ کے حاشیہ میں نہایہ کی طرف منسوب ہے کہ اگر واضح عذر ہو تو اسے فسخ کا اختیار ہے اور اگر مشتبہ معاملہ ہو تو پھر اختیار نہیں، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع