30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
والوعدہ لاحجر فیہ وماکان یخشی من جہۃ تعیین شیئ بازاء العمل علی تقدیر الصحۃ فقد زال بتصریح نفی الاجارۃ کون ذٰلك تبرع بلا عقد فان الصریح یفوق الدلالۃ کما لایخفی،فی الہندیۃ سئل شمس الائمۃ الاوزجندی عمن دفع الی طبیب جاریۃ مریضۃ وقا لہ عالجھا بمالک،فمایزداد من قیمتہا بسبب الصحۃ فالزیادۃ لك ففعل الطبیب و برئت الجاریۃ فلطبیب علی المالك اجر مثل المعالجۃ، وثمن الادویۃ والنفقۃ ولیس لہ سوی ذٰلك شیئ کذا فی المحیط،وفیہا عن البزازٰیۃ دفع جاریۃ مریضۃ الی طبیب وقال عالجہا فان برئت فمازاد من قیمتہا بالصحۃ بیننا فعالجہا حتی صحت لہ اجر المثل [1] الخ،و فیہا عن المحیط الاصل ان العقد اذا فسد مع کون المسمی کل معلوما لمعنی اٰخر یجب اجر المثلی و لایزاد علی المسمی،حتی ان المسمی اذا کان خمسۃ اجر المثل عشرۃ یجب خمسۃ لاغیر۔وینقص عن |
حرج نہیں ہے اور یہ احتمال کہ عمل کے مقابلہ میں اجرت کا تعین ہے تو ی احتمال اجارہ کی صراحۃ نفی سے ختم ہوجاتاہے کیونکہ صریح بات محض دلالت پر فائق ہوتی ہے جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔ہندیہ میں ہے کہ شمس الائمہ اورزجندی سے سوال ہوا کہ ایك شخص نے طبیب کو کہا میری مریضہ لونڈی کا اپنے خرچ سے علاج کرو اور صحت ہوجانے پر اس کی جتنی زائد قیمت ہوگی وہ تیری ہوگی تو طبیب کے علاج سے وہ تندرست ہوگئی تو مالك پر طبیب کےلئے مثلی اجرت ہوگی اور ساتھ ہی دوائیوں کی قیمت او رلونڈی کی خوراك کاخرچہ بھی طبیب کودے گا،طبیب کو اس سے زائد کچھ استحقاق نہ ہوگا، محیط میں یوں ہے،ہندیہ میں بزازیہ سے منقول ہے کہ مریض لونڈی طبیب کے سپرد کرکے کہا کہ اس کا علاج کرو او راس کی صحت پر جنتی قیمت زائد حاصل ہوگی وہ میرے اور تیرے درمیان تقسیم ہوگی۔تو اگر مریضہ تندرست ہوگئی تو معالج کو صرف مثلی قیمت دی جائیگی الخ، اورہندیہ میں محیط سے منقول ہے،قاعدہ یہ ہے کہ اگر عقد کسی خارجی وجہ سے فاسد ہوجائے تو مثلی اجرت لازم ہوتی ہے،او رمقررہ اجرت سے زائد نہ ہونی چاہئے حتی کہ اگر مقررہ اجرت پانچ درہم ہے اور مثلی اجرت دس درہم ہے تو پانچ ہی دئے جائیں گے،زائد نہیں،مثلی اجرت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع