30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یعنی معامل کنندگان اجرۃ گفتند یا انعاما،یا ہم درکلام ایشاں باشد کہ گفتند اجرۃ یا انعاما خواہد گرفت،ایں نیز سہ صورت شد وکذٰلك قولش"وگرنہ ہیچ اجرت بردے عائد نخواہد شد"می شاید کہ بربنائے نفی اجارہ باشد یعنی اجارہ خود نبود کہ اجرت لازم آمدے،و می تواند بربنائے انتقائے شرط مقرر فی الاجارہ بود،بالجملہ ایں سخن پہلو ہائے بسیار دارد برتقدیریکہ زید وبکر اقتصار برلفظ اجرۃ کردہ باشند اجارہ خود معین ست والنفی ان کان کان نفی المطلقۃ لاالنفی المطلق لتحقق المشروط عیانا،ورنہ اثبات ونفیش ہر دو بدستورمحتمل،زیر اکہ انعام اگر چند عــــــہ صلہ ہا تبرع گویند درہمچو مقام بربدل و معاوضہ ہم اطلاقش کنند،ولفظ انعام تنہایا مردودااگر رودبعد اجارہ داردقیدحلا درسابق شرط "ورنہ"درلاحق رو بتحقیق اوست،وسخن ضابطہ دریں مقام آنست کہ اگر زید وبکر ازیں کلام عقد اجارہ خواستہ اندو دادن اجرت مشروط بشرط مذکورہ داشتہ،وازہمیں قبیل ست تقرر معاوضہ وبدل برعمل،اگرچہ اجرتش |
احتمال یہ ہے کہ سال بھیجنے والے کا خیال ہے دونوں حضرات نے اجرت کی بات کی ہے یا انعام کہاہے جو اسے متعین طور پر معلوم نہیں ہے دوسرا احتمال یہ ہے کہ دونوں فریقوں نے اپنی گفتگو میں کہا ہے اجرت کے طورپر یاانعام کے طورپر لے گا،پھر زید طبیب کا یہ کہنا کہ"لے گا"اس میں تین صورتیں ہیں اوریوں ہی زید کا کہنا کہ ورنہ کوئی اجرت بکر کے ذمہ نہ ہوگی کہ اجارہ کے طور پر نہ ہوگی یعنی اجارہ ہی نہیں تو اجرت کیا ہوگی اور ہوسکتاہے اجارہ میں مقررہ اجرت کی شرط کی نفی کی ہو،غرضیکہ یہ بات بہت سے پہلو رکھتی ہے اس تقدیر پر کہ زید او ربکرنے صرف اجارہ کے ذکر پر اکتفا کیا ہو تو اجارہ کی صورت ہوگئی ہے اور(ورنہ کچھ اجرت نہ ہوگی)یہ نفی مطلق اجرت کی ہوگی مکمل نفی نہ ہوگی،کیونکہ مشروط(مرض)واضح طور پر متحقق ہے،ورنہ مکمل نفی میں اثبات ونفی دونوں احتمال بدستور باقی ہوں گے کیونکہ انعام اگرچہ صلہ اورتبرع ہوتاہے مگر ایسے مقام میں بدل اور معاوضہ بھی مراد ہوتاہے اور انعام کا لفظ صورتا اگر عدم اجارہ ہے تو پہلے"فی الحال"کی قید اور بعد میں"ورنہ"کی شرط اجارہ کے تحقق کی صورت ہے،اور ضابطہ کی بات یہاں یہ ہےکہ اگر زید وبکر نے یہ |
عــــــہ: اظنہ"اگرچہ"۱۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع