30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
علی انك تفسخ العقد متی اردت فالاجارۃ فاسدۃ [1]۔ |
کہ تو جب چاہے فسخ کردے تو اجارہ فاسد ہوگا۔(ت) |
بالجملہ اس اجارے کا فاسد ہونا ایسا جلی وواضح ہے جس میں کسی خادم فقہ کو توقف نہیں ہوسکتا تو خالد کو ضرور اختیار فسخ حاصل ہے،رضامندی فریقین کی حاجت عقد صحیح لازم میں ہوتی ہے عقود فاسدہ میں کیا ضرورت،خالد کو اختیار ہونا کیسا اس پر اور نیر ہر مستاجر پر فسخ کرنا واجب ہے وہ نہ کریں حاکم پر لازم وہ بھی باز رہے تو سب گنہگاروآثم،تنقیح الفتاوی حامدیہ میں ہے:
|
سئل فیما اذا کان لزید ثلاث جنینۃ معلومۃ وثلثہا الاخرملك عمر وفاجرزید ثلثیۃ من بکر فہل یملك المستاجر الدعوی بفسادھا الجواب نعم الاجارۃ والبیع اخوان لان الاجارۃ تملیك المنافع و البیع تملیك الایمان وقد قال فی الدرالمختار فی باب البیعم الفاسد یجب علی کل واحد منہا ای من البائع والمشتری فسخہ اعداما للفساد،لانہ معصیۃ فیجب رفعہا،بحر۔واذاصراحدہما علی امساکہ و علم بہ القاضی فلہ فسخہ جبراعلیہما حقا للشرع بزازیۃ [2] اھ باختصار۔ |
ان سے سوال ہوا کہ ایك باغ کا دو تہائی حصہ زید کا ہوا ور ایك تہائی حصہ کامالك عمرو ہو توزید نے اپنا دو تہائی بکر کو اجارہ پر دے دیا تو کیا مستاجر کو حق ہے کہ اجارہ کے فساد کا دعوٰی کرے،الجواب ہاں،کیونکہ بیع اور اجارہ ہم مثل ہیں کیونکہ اجارہ میں منافع کا مالك اور بیع میں عین شیئ کا مالك بنانا ہوتاہے اور درمختار میں بیع فاسد کے باب میں فرمایا کہ بائع اور مشتری دونوں پر فسخ کرنا واجب ہے تاکہ فساد ختم ہوسکے، کیونکہ وہ گناہ ہے جس کو ختم کرنا ضروری ہوتاہے۔بحر۔اور اگر دونوں میں سے کوئی ایك اس کوقائم رکھنے پر مصر ہو اور قاضی کو معلوم ہوجائے تو وہ جبرا فسخ کردے تاکہ شرعی حق قائم ہو،بزایہ اھ اختصار(ت) |
خاص اس وجوب فسخ اجارہپر بوجہ فساد کے جزئیہ میں عبارات کثیرہ علماء فقیر کے پیش نظر موجودہیں جن سے بعض فتوائے سابقہ میں منقول ہوئیں،اور عبارت خیریہ ابھی گزری مگریہاں بالقصد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع