30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۱۶۱: از ریاست رامپور شفاخانہ صدر یانونی مرسلہ عبدالکریم خاں صاحب تحویلدار ۲۳ جمادی الاولٰی ۱۳۱۶ھ
بحضورلامع النور جناب مستطاب معلی القاب دام فیضہ،سابق حضور نے بدرخواست فدوی فتوٰی ارسال فرمایاتھا ا س کو داخل عدالت کردیا،بجواب اس کے حاکم مرافعہ عدالت دیوانی کے حاکم سے صحت فتوٰی مرسلہ حضور کی طلب کی ہے،عالیجاہا! یہ امر ضرور ثابت ہے کہ حاکم مجوز اپنی تجویز کو خراب نہیں کرسکتا ہے،اور فتوٰی جوحضور نے کرم فرماکر رسال فرمایا تھا اس میں جس قدر روایتات مندرج ہیں بیع سے تعلق رکھتے ہیں،اجارہ کے معاملہ میں کوئی روایت نہیں تھی جس کی صحت حاکم مرافعہ نے کرائی ہے،اس واسطے حضور کو دوبارہ تکلیف دیتاہوں،اور نقل روبکار کی من وعن بھیجتاہوں۔
الجواب:
فتوٰی سابقہ میں مفصلا ثابت کردیا گیا کہ یہ اجارہ فاسد اور اس کا فسخ واجب ہے،وہ روایات سب متعلق اجارہ تھیں،انھیں متعلق بیع کہنا ہی متعلق اجارہ ماننا ہے کہ یہاں اجارہ وبیع کا ایك ہی حکم ہے بلکہ اجارہ معنی بیع کی ایك قسم ہے۔ارشادات علماء برسبیل اختصارسنئے: ۱مغنی المستفتی پھر ۲عقودالدریہ میں ہے:
|
البیع والاجارۃ اخوان لان الاجارۃ بیع المنافع [1]۔ |
بیع واجارہ بھائی بھائی ہیں اس لئے کہ اجارہ منافع کی بیع ہے۔ |
۳ردالمحتارمیں ہے:
|
الاجارۃ نوع من البیع اذھی بیع المنافع [2]۔ |
اجارہ بیع کی ایك قسم ہے کہ وہ بیع منافع ہے۔ |
۴مختصرامام ابوالحسن قدوری ۵ہدایہ میں ہے:
|
(الاجارہ تفسدھا الشروط کما تفسدالبیع)لانہا بمنزلتہ [3]۔ |
اجارہ کوشرطیں فاسد کرتی ہیں جس طرح بیع کوکہ اجارہ بمنزلہ بیع ہے۔ |
۶کافی امام نسفی و۷کفایہ شرح ہدایہ و۸برجندی شرح نقایہ و۹طحطاوی علی الدرالمختار
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع