30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جب نفس عقد اسی شرط فسخ فاسد سے مشروط تو قطعا اصل اجارہ فاسد
|
فانہا کالبیع لاتحتمل الاشتراط بالشروط الفاسدۃ وقد قال فی الہدایۃ فی مسئلۃ خیار العقد فی ھذا لمسئلۃ قیاس اٰخرمال الیہ زفر،وہو انہ بیع شرط فیہ اقالۃ فاسدۃ لتعلقہا بالشروط،والا شتراط الصحیح منہا فیہ مفسد العقد فاشتراط الفاسد اولی،ووجہ الاستحسان مابینا [1] اھ وھو ماقدمنا عن البحرانہ فی معنی خیار الشرط فیصح الی ثلثۃ ایام لا ازید ولامجہولا ولامطلقا کما ھنا، قال فی البحرا لایصح اشتراطہ الاکثرمن ثلثۃ ایام عنہ ابی حنیفۃ(الی ان قال واطلاق المدۃ عندہ کاشتراط لاکثر فی عدم الجواز وافساد البیع ولو قال المؤلف و لو اکثر اومؤبدا اوموقتا بوقت مجہول لکان اولی لان البیع فاسد فی ھذہ کلہا کما فی التتارخانیۃ [2] اھ، قتل والمعنی اذا کان مشروطا |
تو اجارہ بیع کی طرح فاسد شرائط سے مشروط نہیں ہوسکتا۔اور ہدایہ میں خیار نقد کے مسئلہ میں فرمایا اس مسئلہ میں ایك او ر قیاس بھی ہے کہ جس کی طرف امام زفر کا میلان ہے کہ یہ ایسی بیع ہے جس میں فاسد اقالہ کی شرط ہے کیونکہ اس کو شرائط سے معلق کیا گیا ہے جبکہ اس میں صحیح اقالہ کی شرط مفسد عقد ہے تو فاسد کی شرط بطریق اولٰی مفسد ہوگی اور استحسان کی وجہ وہ ہے جو ہم نے بیان کردی ہے او راس کو ہم بحر سے نقل کرچکے ہیں کہ خیارشرط کے معنی میں ہے لہذا تین دن کی شرط صحیح اس سے زائد کی صحیح نہیں اور نہ ہی مجہول شرط اور عام شرط صحیح ہوگی جیساکہ یہاں ہے،بحر میں کہا ہے کہ تین دن سے زائد کی شرط امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نزدیك صحیح نہیں ہے اور آگے یہاں تك کہا کہ مطلق مدت کی شرط بھی امام صاحب رضی اﷲ تعالٰی کے نزدیك تین دن سے زائد کی طرح جائز نہیں اور بیع فاسد ہوگی اور اگر مؤلف یوں بیان کرتے،اگر مدت تین دن سے زائد یا ہمیشہ یا کسی مجہول وقت کی ہو تو ناجائز ہے کیونکہ ان تینوں صورتوں میں بیع فاسد ہوتی ہے جیسا کہ تاتارخانیہ میں ہے اھ میں کہتاہوں مراد |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع