30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
|
مکان کو اجارہ پر ایك شخص کو دیا تا جائز ہے اور اگر ایك نے مستاجر کی رضامندی سے اپنے نصف حصہ کا اجارہ فسخ کردیا،یا ایك فوت ہوگیا تو باقی نصف میں اجارہ باقی رہے گا ۱۲ بحرالرائق(ت) |
الجواب:
صورت مستفسرہ میں خالد کو ضرور اختیار ہے فسخ حاصل ہے،بلکہ ہر فریق پر اجارہ مذکورہ کا فسخ واجب ہے،اگر وہ نہ کریں حاکم جبرًا فسخ کردے،اگر نہ کرے گا گنہ گار ہوگا،وجہ یہ کہ اجارہ مذکورہ شرعا بوجوہ فاسدہ ہے۔
اولًا: اس میں ضمانت مجہولہ شرط کی گئی نہ ضامن حاضر تھا،نہ مجلس عقد میں قبل تفرق عاقدین حاضرین ہوا،ایسی شرط ضمانت بیع واجارہ میں ناجائز ومفسد ہے۔
ثانیًا:مجلس عقد میں کسی ضامن کی طرف سے قبول ضمانت واقع نہ ہوا،ایسی ضمانت نامقبولہ،اگر چہ غیر مجہولہ ہو مفسد عقدہے۔
ثالثًا:اگر امانت سے مراد رہن ہے تو اس کا بھی کوئی تعین پیش از تفرق عاقدین نہ ہوا،ایسے رہن کی شرط بھی مفسد ہے،در مختار میں ہے:
|
یصح البیع بشرط یقتضیہ العقد او یلائمۃ کشرط رہن معلوم وکفیل حاضر،ابن ملك [1] اھ ملتقطا |
جو عقد کا مقتضی ہویا عقد کے مناسب ہو ایسی شرط کے ساتھ بیع صحیح ہے مثلا بیع میں معلوم رہن یا حاضر کفیل کی شرط لگانا، ابن ملك اھ ملتقطا(ت) |
بحرالرائق میں ہے:
|
وان کان ملائما للبیع لایفسدہ کالبیع بشرط کفیل بالثمن اذاکان حاضرا وقبلہا اوغائبا فحضر وقبل قبل التفریق وکشرط رہن معلوم بالاشارۃ او التسمیۃ فان حاصلہما |
اگر شرط بیع کے مناسب ہو تو اس سے بیع فاسد نہ ہوگی مثلا بیع میں ثمن کے کفیل کی شرط جب کفیل موجود حاضر ہو اور قبول کرلے یا غائب تھا تو موقع پرحاضر ہوگیا اور فریقین کے متفرق ہونے سے قبل کفیل نے قبول کرلیا ہو،اور مثلا بیع میں اشارہ یا نام ذکر کے متعین |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع