30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حسب الطلب خالد کے دیں گے،اور در صورت نہ دینے ضمانت اورنہ ادا کرنے کسی ایك قسط کے خالد کو اختیار فسخ اجارہ حاصل ہے،پس ہردومستاجران نے دونوں شرطوں کووفا نہیں کیا،اور نوبت دعوٰی فسخ روبرو قاضی پہنچی،تو ایك شریك کو دعوٰی خالد سے اقبال ہے،اور دوسرے کو دعوٰی فسخ خالد سے انکار ہے،آیا ایسی صورت میں خالد کو اختیار فسخ اجارہ ہر دومستاجران سے حاصل ہے یاکیا؟ بینوا توجروا
بحضور لامع النور،زبدۃ العلماء والفقہاء جناب مولانا مولو ی احمد رضاخاں صاحب دام فضلہم جناب عالی!
صورت مسئولہ میں یہاں پر مفتیان نے بموجب اقوال تحت فیصلہ فرمایا،حضور نائب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہیں، لہذا استفتا منسبلکہ عرضداشت ہذا ابلاغ کرکے امیدوار کہ جواب جلد مرحمت فرمایا جائے،
|
قال شمس الائمۃ السرخسی قال بعض اصحابنا اضافۃ الفسخ الی مجیئ الشہر وغیرذٰلك من الاوقات صحیح وتعلیق الفسخ بمجیئ الشہر وغیرہ ذٰلك لایصح والفتوٰی علی قولہ کذا فی فتاوٰی قاضیخاں، [1]ثانی،والشیوع الطارئ لایفسدہا اجماعا کما لو اٰجر ثم تفاسخا فی بعض اومات احدھما او استحق بعضھا تبقی فی الباقی[2] ۱۲ عالمگیری۔مؤید آں وفی الغاثیۃ رجلان اٰجرادارھما من رجل جاز وان فسخ احدھما برضا المستاجر اومات لاتبطل فی النصف [3] الاٰخر ۱۲ بحر الرائق۔ |
شمس الائمہ سرخسی نے فرمایا ہمارے بعض اصحاب نے فرمایا ہے فسخ کی اضافت مہینہ کی آمد کی طرف کرنا اور ایسے ہی دیگر اوقات کی طرف کرنا صحیح ہے،اور فسخ مہینہ وغیرہ اوقات کے ساتھ معلق کرنا،صحیح نہیں،اورفتوٰی اس بعض کے قول پر ہے فتاوٰی قاضیخاں میں یوں ہے،دوسرا یہ کہ بعد میں طاری ہونے ولا شیوع بالاجماع اجارہ کوفسخ نہ کرے گا۔مثلا اگر مکان اجارہ پر دیا پھر فریقین نے کچھ حصہ میں اجارہ فسخ کردیا،یا کوئی ایك فریق فوت ہوگیا یا مکان کا کچھ حصہ کسی غیر کا حق ظاہر ہوا،تو باقیماندہ حصہ میں اجارہ باقی رہے گا ۱۲ عالمگیری،اس کی تائید ہے کہ غیاثیہ میں ہے دو۲ حضرات نے اپنے مشترکہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع