30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حموی میں ہے:
|
ای ولایتجاوزبہ ماسمی وکذالو قال اشترلی کما فی البزازیۃ،وعلی قیاس ھذا السماسرۃ والدلالین الواجب اجر المثل کما فی الولوالجیۃ [1]۔ |
یعنی مقررہ اجرت سے زائد نہ ہوگی،اور یوں ہی اگر کہا تو مجھے خریددے،جیسا کہ بزازیہ میں ہے اوراس پر قیاس ہوگا دلال حضرات کا معاملہ کہ ان کو مثلی اجرت دی جائے گی جیسا کہ ولولوالجیہ میں ہے۔(ت) |
ردالمحتار میں تاتارخانیہ سے ہے:
|
فی الدلال والسمسار یجب اجرالمثل و ماتواضعوا علیہ ان فی کل عشرۃ دنانیر کذا فذلك حرام علیہم [2]۔ |
آڑھتی اور دلال حضرات کے لئے مثلی اجرت ہوگی اور وہ جو دس دنانیر میں اتنا طے کرتے ہیں تو یہ حرام ہے۔(ت) |
پھر از انجا کہ یہ شخص مشتر ی کا نوکر واجیر خاص تھا جتنی مدت اس نے بائع کے کام میں صرف کی اتنی تنخواہ ساقط ہوگئی،مثلًا دس۱۰ روپے ماہوار کا نوکر تھا تین دن بائع کی طرف سے اس سعی میں گزر گئے تو ایك روپیہ تنخواہ کا مستحق نہ رہا،اوراگر بائع سے یہ عقد اجارہ بے اذن واجازت مشتری ہوا،تو گناہ علاوہ کہ اجیر خاص کوبے اجازت آقا دوسرے کا کام کرنا جائز نہیں،درمختار میں ہے:
|
لیس للخاص ان یعمل لغیرہ ولو عمل نقص من اجرتہ بقدر ما عمل۔فتاوٰی النوازل۔[3] واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اجیر خاص کو جائز نہیں کہ دوسروں کا کام کرے اگر اس نے ایسا کیا تو اتنا اس کی اجرت سے کاٹا جائے گا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۱۵۹: از محمد گنج ضلع بریلی مرسلہ عبدالقادر خاں رامپوری ۲۲ صفر ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص کسی مزدور کو برائے مزدوری سو کو س یا پچاس کے فاصلہ پر لے جائے،بعد ازاں اس سے چار پانچ ماہ تك کام کرالے،اور بروقت حساب کے اس کو تیس۳۰ روپے کے کام کے بیس روپے اور اس پر سختی کرے اور اسے پریشان کرے،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع