30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جب تو یہ شخص عمرو بائع سے کسی اُجرت کا مستحق نہیں کہ اجرت آنے جانے محنت کرنے کی ہوتی ہے نہ بیٹھے بیٹھے،دو چار باتیں کہنے،صلاح بتانے مشورہ دینے کی،ردالمحتار میں بزازیہ وولوالجیہ سے ہے:
|
الدلالۃ والاشارۃ لیست بعمل یستحق بہ الاجر، وان قال لرجل بعینہ ان دللتنی علی کذا فلك کذا، ان مشی لہ فدلہ فلہ اجر المثل للمشی لاجلہ،لان ذٰلك عمل یستحق بعقد الاجارۃ [1] الخ۔ |
محض بتانا اور اشارہ کرنا ایسا عمل نہیں ہے جس پر وہ اجرت کا مستحق ہو،اگر کسی نے ایك خاص شخص کو کہا اگر تو مجھے فلاں چیز پر رہنمائی کرے تو اتنا اجر دوں گا،اگر وہ شخص چل کر رہنمائی کرے تو اس کو مثلی اجرت دینا ہوگی کیونکہ وہ اس خاطر چل کرلے گا کیونکہ چلنا ایسا عمل ہے جس پر عقد اجارہ میں اُجرت کا مستحق ہوتاہے۔الخ(ت) |
غمز العیون میں خزانۃ الاکمل سے ہے:
|
امالودلہ بالکلام فلا شیئ لہ [2]۔ |
اگر صرف زبانی رہنمائی دے تو اس کے لئے کچھ نہیں(ت) |
اور اگر بائع کی طرف سے محنت وکوشش ودوادوش میں اپنا زمانہ صرف کیا تو صرف اجر مثل کا مستحق ہوگا،یعنی ایسے کام اتنی سعی پر جو مزدوری ہوتی ہے اس سے زائد نہ پائے گا اگر چہ بائع سے قرارداد کتنے ہی زیادہ کا ہو،اور اگر قرارداد اجر مثل سے کم کا ہو تو کم ہی دلائیں گے کہ سقوط زیادت پر خود راضی ہوچکا،خانیہ میں ہے:
|
ان کان الدلال الاول عرض تعنٰی وذھب فی ذٰلك روزگارہ کان لہ اجر مثلہ بقدر عنائہ وعملہ [3]۔ |
اگر روزگار کے سلسلہ میں دلال نے محنت کی اور آیا گیا تو اس کی محنت اور عمل کے مطابق مثلی اجرت ہوگی۔(ت) |
اشباہ میں ہے:
|
بعہ لی بکذا ولك کذا فباع فلہ اجر المثل [4]۔ |
اگر دوسرے کو کہا تو میرے لئے اتنے میں اس کو فروخت کر تو اس نے وہ چیز فروخت کردی تو دلال مثلی اُجرت کا مستحق ہوگا۔(ت) |
[1] ردالمحتار کتاب الاجارۃ مسائل شتی من الاجارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۵۸
[2] غمز عیون البصائر مع الاشباہ الفن الثانی کتاب الاجارات ادارۃالقرآن کراچی ۲ /۶۰
[3] فتاوٰی قاضی خاں کتاب الاجارات باب الاجارۃ الفاسدۃ مطبع نولکشور لکھنؤ ۳ /۴۳۴
[4] الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الاجارات اداراۃ القرآن کراچی ۲ /۶۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع