30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لانہ ھوالمتعارف،فینصرف المطلق الیہ [1]۔ |
متعارف ہے تو مطلق اس کی طرف ہی راجع ہوگا۔(ت) |
اور بالفرض مان بھی لیا جائے کہ یہاں کے مسلمان میں شہود شمسیہ بھی بکثرت رواج پاگئے تاہم اس میں کلام نہیں کہ مدرسان علوم عربیہ دینیہ کا تقرر عام طور پر انھیں شہور الہٰیہ ہلالیہ پر متعارف ہے کہ وہ خاص دینی کام ہے،اور عام مسلمین پر بحمداﷲ ہنوز اتباع نصارٰی ایسا غالب نہ ہوا کہ اپنے دینی امورمیں بھی ان کی تقلید کریں،تو اس تقرر میں قطعا شہور ربانیہ ہی معتبر ہوں گے نہ کہ شہورنصرانیہ،کما لایخفی علی اولی النہی(جیسا کہ عقلمندوں پر مخفی نہیں ہے۔ت)تعلیم علوم دینیہ پر اُجرت لینی صد ہاسال سے بمذہب مفتٰی بہ علماء نے نظر بفساد زمانہ حلال فرمائی یہ تحلیل اس لئے تھی کہ اہل علم ناشران علم دین کی خدمت ہوتی رہے،وہ تلاش معاش میں پریشان ہو کر اس وراثت انبیاء کی اشاعت سے مجبور نہ رہیں،نہ اس لئے کہ معاذاﷲ استاذ علم دین کی تعظیم وتوقیر نہ کی جائے۔اساتذہ وشیوخ علم شرعیہ بلاشبہ آبائے معنوی وآبائے روح ہیں جن کی حرمت وعظمت آبائے جسم سے زائد ہے کہ وہ پدر آب وگل ہے اور یہ پدر جان ودل،علامہ مناوی تیسیر جامع صغیر میں فرماتے ہیں: ؎
من علم الناس ذاك خیراب ذا ابوالروح لاابوالنطف [2]
یعنی استاد کا مرتبہ باپ سے زیادہ ہے کہ وہ روح کا باپ ہے،نہ نطفہ کا،
علامہ حسن شرنبلالی"غنیہ ذوی الارحام"حاشیہ"درر وغرر"میں فرماتے ہیں:
|
الوالد ھو والد التربیۃ فرتبتہ فائقۃ رتبۃ والد التبنیۃ [3]۔ |
یعنی اعلٰی درجہ کا باپ استاد مربی ہے۔اس کا مرتبہ پدر نسب کے مرتبہ سے زائد ہے۔ |
عین العلم شریف میں ہے:
|
یبرالوالدین فالعقوق من الکبائر،ویقدم حق المعلم علی |
ماں باپ کے ساتھ نیك برتاؤ کرے کہ انھیں ناراض کرنا گناہ کبیرہ ہے اوراستاد کے حق کو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع