30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یفتی،درمختار [1] وعلیہ اکثر المشائخ،محیط،وعلیہ الفتوی،خلاصۃ اھ من ردالمحتار وجامع الرموز [2] نعم عدم الجواز فی العبادات والعدد الشرعی مقطوع بہ مجمع علیہ،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
ہے۔درمختار،اور اسی پر اکثر مشائخ ہیں،محیط،اسی پر فتوٰی ہے، خلاصہ،یہ ردالمحتار اور جامع الرموز سے منقول ہے،ہاں عبادات اورشرعی اعداد قمری سال ہی متفق علیہ ہے،واﷲ تعالٰی علم۔ (ت) |
بالجملہ اجارات وغیرہا معاملات میں مدار تعارف پرہے،اور مسلمین میں متعارف یہی مہینے تو عندالاطلاق انھیں کی طرف انصراف،ردالمحتار وفتح القدیرمیں ہے:
|
اھل الشرع انما یتعارفون الاشہر السنین بالاھلۃ فاذا اطلقواالسنۃ انصرف الی ذٰلك مالم یصرحوا بخلافہ [3]۔ |
اہل شرع نے قمری مہینے اور سال اپنا عرف قراردیاہے۔تو جب وہ مطلق سال ذکر کرتے ہیں غیر کی تصریح نہ کریں تو قمری مراد ہوتاہے(ت) |
اگر بعض مسلمانان باتباع نصارٰی شہورشمسیہ پر حساب رکھنے لگیں تو اس کااعتبار نہیں کہ معتبر عرف عام وشائع ہے،نہ قرار داد خاص بعض ناس، اشباہ والنظائر میں ہے:
|
انما تعتبر العادۃ اذا اطردت اوغلبت،ولذا قالوا فی البیع لو باع بدراہم ودنانیر وکانا فی بلد اختلف فیہ النقود مع الاختلاف فی المالیۃ والرواج انصرف البیع الی الاغلب قال فی الہدایۃ |
عادت جب عام اور غالب ہوجائے تو وہی معتبر ہوتی ہے اور اسی وجہ سے وہ بیع کے باب میں فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے مطلق دراہم یادنانیر کو بیع میں ذکرکیا تو شہر میں مالیت اور رواج کے لحاظ سے نقود کا اختلاف ہو تو وہاں غالب نقد پر بیع مانی جائے گی،ہدایہ میں فرمایاکیونکہ وہ |
[1] درمختار کتاب الطلاق باب العنین وغیرہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۵۳
[2] ردالمحتار کتاب الطلاق باب العنین وغیرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۵۹۵،جامع الرموز کتاب الطلاق باب العنین وغیرہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قامو س ایران ۲ /۵۷۴
[3] فتح القدیر کتاب الطلاق باب العنین وغیرہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴ /۱۳۲،ردالمحتار کتاب الطلاق باب العنین وغیرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۵۹۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع