30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیا فرماتے ہیں علمائے شریعت السہلہ الغراء ومفتیان ملت السمحۃ البیضاء کہ دومسلمانوں میں اجارہ تدریس فنون عربی بمشاہرہ(مہ عہ/)ایك اور(صہ/)دوسرے کی طرف سے بلاذکر ماہ قمری شرعی وشمسی انگریزی وغیرہ ہوا،درصورت اختلاف مستاجرواجیر تعیین قرآنی یا تعیین انسانی عرفی یا عرف مدرسین عربی کی تعیین معتبر ہوگی اور جو اجیر تفسیر مدارك التنزیل شریف اور بیضاوی شریف اور صحیح بخاری شریف پڑھائے اس کی تعظیم او رکوئی ادب مستاجر متعلم پر شرعا عقلا عرفاہے یانہیں؟ اور استاذین وشیوخ آباء معنوی ہیں،اس کاکہاں تك شریعت مطہرہ میں اثر ہے ؟ بینوا توجروا
الجواب:
کیا فرماتے ہیں علمائے شریعت السہلہ الغراء ومفتیان ملت السمحۃ البیضاء کہ دومسلمانوں میں اجارہ تدریس فنون عربی بمشاہرہ(مہ عہ/)ایك اور (صہ/) دوسرے کی طرف سے بلاذکر ماہ قمری شرعی وشمسی انگریزی وغیرہ ہوا،درصورت اختلاف مستاجرواجیر تعیین قرآنی یا تعیین انسانی عرفی یا عرف مدرسین عربی کی تعیین معتبر ہوگی اور جو اجیر تفسیر مدارك التنزیل شریف اور بیضاوی شریف اور صحیح بخاری شریف پڑھائے اس کی تعظیم او رکوئی ادب مستاجر متعلم پر شرعا عقلا عرفاہے یانہیں؟ اور استاذین وشیوخ آباء معنوی ہیں،اس کاکہاں تك شریعت مطہرہ میں اثر ہے ؟ بینوا توجروا
الجواب:
|
قال اﷲ تعالٰی عزوجل " یَسْـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡاَہِلَّۃِؕ قُلْ ہِیَ مَوٰقِیۡتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّؕ"۔[1] |
اے نبی! یہ تجھ سے پوچھتے ہیں نئے چاندوں کاحال،تو فرمادو وقت ٹھہرائے ہیں لوگوں کے لئے اور حج کے واسطے۔ |
آیہ کریمہ شاہد ہے کہ اہل اسلام کے نہ صرف عبادات بلکہ معاملات میں بھی یہی قمری مہینے معتبر ہیں۔مدارك شریف میں ہے:
|
مواقیت الناس والحج ای معالم یوقت بہا الناس مزار عہم ومتاجرھم ومحال دیونہم وصومہم وفطرہم و عدۃ نسأھم و ایام حیضہن ومدۃ حملہن وغیر ذٰلك و معالم للحج یعرف بہا وقتہ [2]۔ |
مواقیت للناس والحج یعنی علامات جن سے لوگ اپنی مزارعت، اجارہ،قرض اور دیون کی ادائیگی،روزہ، افطار،عورتوں کی عدت، حیض کے ایام اور حمل کی مدت وغیرہ کا وقت معلوم کریں گے اور حج کی علامت جن سے لوگ اس کا وقت پہچان سکیں گے۔(ت) |
عنایۃ القاضی وکفایۃ الراضی حاشیہ خفاجی علی البیضاوی میں ہے:
|
اجیبوا ببیان الغرض من ھذا الاختلاف من بیان مواقیت العبادات والمعاملات [3]۔ |
صحابہ کو چاند کے بڑھنے اور گھٹنے کی غر ض سے جواب بیان فرمایا کہ عبادات اور معاملات مقرر اوقات کا بیان ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع