30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کرایہ میں دیتا ہے بعینہٖ اس کا حرام ہونا معلوم نہیں تو لینا جائز،اگرچہ اس کا اکثرمال حرام ہی ہو۔
|
فی الہندیۃ عن الظہیریۃ عن الامام الفقیہ ابی اللیث قال بعضہم یجوز مالم یعلم انہ یعطیہ من حرام قال محمدو بہ نأخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ وھو قول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی واصحابہ [1]۔ |
ہندیہ میں ظہیریہ کے حولے سے امام ابولیث سے منقول ہے کہ بعض نے فرمایا جب تك حرام سے ادائیگی کا علم نہیں ہے، اس وقت تك لے سکتاہے امام محمد علیہ الرحمۃ نے فرمایا ہمارا یہی مختارہے کہ جب تك بعینہٖ حرام ہونے کاعلم نہیں ہے،یہی امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب رحمہم اﷲ تعالٰی کا قول ہے،(ت) |
خانیہ میں ہے:
|
ان لم یعلم الاٰخذ انہ من مال اومن مال غیرہ فہو حلال حتی یتبین انہ حرام [2]۔ |
اگرلینے والے کومعلوم نہیں کہ اس کا مال ہے یا غیر کا تو اس کو حلال ہے تاوقتیکہ حرام ہونا واضح نہ ہوجائے۔(ت) |
مگرا س صورت میں یعنی بحالت غلبہ حرام تقوٰی احتراز ہے۔فان للاکثر حکم الکل بل منہم من نص عند ذٰلك علی عدم الجواز فالاسلم الاحتراز۔کیونکہ اکثرپر کل کاحکم ہوتا ہے بلکہ بعض نے نص فرمائی ہے کہ ایسی صورت میں ناجائز ہے تو پرہیز میں سلامتی ہے۔(ت)خصوصا مقتدٰی کے لئے حدیث:
|
ایاك ومایسوء الاذن عــــــہ [3] ۔والحفظ دین العوام عن اقتحام الحرام۔ |
تو بدگمانی سے بچ،اور عوام کے دین کی حفاظت کے لئے حرام سے دور رہ۔(ت) |
باقی ا س مسئلہ کے متعلق جلیل وتنقیح جمیل فتاوٰی فقیر سے کتاب الحظر والاباحۃ میں ہے فلینظر ثمہ،واﷲ سبحانہ و تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
عــــــہ: فی الاصل ھکذا لعل الصواب"الظن"۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع