30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دوم کا جواب یہ کہ جس مال کا بعینہ حرام ہونا معلوم ہو اس سے اجرت لینا جائز نہیں،مثلا اجارہ دینے والے کو خبر ہے کہ یہ روپیہ زید نے غصب یاسرقہ،یار شوت یا ہندہ نے زنا یا غنا کی اُجرت یاکسی مسلمان نے خمروخنزیر کی قیمت میں حاصل کئے ہیں،تو ان کا لینا اسے روانہیں نہ اپنے آتے میں نہ ویسے،
|
فی الہندیۃ عن المحیط عن محمد فی کسب المغنیۃ ان قضی بہ دین لم یکن لصاحب الدین ان یأخذہ [1]۔ |
ہندیہ میں محیط اس میں امام محمد سے منقول ہے کہ مغنیہ عورت کی کمائی سے قرض کی ادائیگی کرنا چاہے تو قرضخواہ کو وہ لینا ناجائز ہے۔(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
قال فی النہایۃ قال بعض مشائخنا کسب المغنیۃ کالمغصوب لم یحل اخذہ [2]۔ |
نہایہ میں فرمایا کہ بعض مشائخ نے فرمایاکہ مغنیہ کی کمائی مغصوب چیز کی طرح ہے اس کا لینا جائز نہیں۔(ت) |
درمختارمیں ہے:
|
جاز رزق القاضی من بیت المال لو بیت المال حلالا جمع بحق والالم یحل [3]۔ |
بیت المال سے قاضی کو وظیفہ جائز ہے بشرطیکہ بیت المال میں حلال مال کو حق کے طور پر جمع کیا گیا ہو ورنہ وہاں سے وظیفہ لینا جائز نہیں۔(ت) |
تنویر الابصارمیں ہے:
|
جاز اخذ دین علی کافر من ثمن خمر بخلاف المسلم [4]۔ |
کافرسے قرض کی وصولی میں شراب فروشی سے حاصل شدہ رقم کولینا جائز ہے،برخلاف مسلمان کے(ت) |
ورنہ فتوٰی مطلقا جواز پر ہے،یعنی اگر چہ اس کے پاس اموال حرام ہونا یقینی ہو،مگریہ روپیہ کہ
[1] فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الخامس عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۹
[2] ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۴۷
[3] درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۶
[4] درمختارشرح تنویر الابصار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع