30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پنڈت یہود کے معلم،شیعوں کے مجتہد،غیر مقلدوں کے واعظ،کسبیان،ڈھاری،بھانڈ،شراب کھینچے بیچنے والے،اور دیگر منشی اشیاء کے تاجر،فساق،فجار،مشرك وکفار،خصوصا وہ جو اپنے مذہب وغیرہ کی اشاعت پر مامور ہوں،اور عموما وہ کہ مامور باشاعت ہوں۔ بینوا توجروا۔
الجواب:
یہاں دو مقام ہیں،اول یہ کہ ان لوگوں کو سکونت کے لئے مکان،زراعت کے لئے زمین کرایہ پر دینا جائز ہے یانہیں؟ دوم برتقدیر جواز ان کے مال سے اجرت لینا کیسا۔
اول کا جواب جواز ہے کہ اس نے تو سکونت وزراعت پر اجارہ دیاہے نہ کسی معصیت پر اور رہنا،بونا فی نفسہٖ معصیت نہیں۔اگر چہ وہ جہاں رہیں معصیت کریں گے،جو رزق حاصل کریں معصیت میں اٹھائیں گے،یہ ان کا فعل ہے جس کا اس شخص پر الزام نہیں۔
|
" وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی ؕ"[1] قلت وبہ ظہر ان المسئلۃ ینبغی ان تکون علی الوفاق بین الامام و صاحبیہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم وھوالمستفاد من کلمات العلماء۔ |
کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی میں کہتاہوں اس سے ظاہر ہواکہ یہ مسئلہ امام صاحب اور صاحبین کے مسلك کے موافق ہے رضی اﷲ تعالٰی عنہم،اور علماء کے کلام سے یہی مستفاد ہے۔(ت) |
ہندیہ میں بعد مسئلہ"اذا استاجر الذمی من المسلم بیتا یبیع فیہ الخمر جاز عند ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی خلافا لہما کذا فی المضمرات [2]"(جب ذمی کسی مسلمان سے مکان کرایہ پر حاصل کرکے شراب فروشی کرے تو جائز ہوگا یہ امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالٰی کے نزدیك بخلاف صاحبین کے،مضمرات میں یوں ہے۔ت)نقل کیا:
|
و اذا استاجر الذمی من المسلم دارا لیسکنہا فلاباس بذٰلك وان شرب فیہا الخمر وعبد فیہا الصلیب او ادخل فیہا الخنازیر ولم یلحق المسلم |
جب ذمی نے مسلمان سے رہائش کے لئے مکان کرایہ پر لیا تو کوئی حرج نہیں اگرچہ وہ مکان میں شراب نوشی کرے یاصلیب کی پوجا کرے یا اس میں خنزیر لائے،اس کا بوجھ مسلمان پر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع