30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مگر جب کوئی عذر بین واضح ظاہر ہوجس میں اصلا محل اشتباہ نہ ہو جب تك ایسا نہ ہو اجیر بیشك مستحق تنخواہ ہوگا۔
|
فی الدرالمختار الاجارۃ تفسخ بالقضاء والرضاء [1]الخ،وفی ردالمحتار الاصح ان العذران کان ظاہر اینفرد وان مشتبہا لاینفرد [2]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
درمختارمیں ہےکہ اجارہ رضامندی یا قضاءکےذریہ فسخ ہوسکتاہے الخ،اور ردالمحتار میں ہےکہ اصح یہ ہےکہ اگر ناغہ کا عذر ظاہرہو تو مدرس کے اختیارمیں ہے اور اگر عذر مشتبہ ہو تو پھر وہ مختار نہیں ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۱۵۲: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کو"طفوہائے"آہنی نیشکر کے تجارۃً کرایہ پر چلاتاہے اور اہل دیہات سے معاملات اجارہ کے کرتاہے اور باشندگان دیہات کو جو دس دس،بیس بیس کوس کے باشندے ہیں،کولھوکرایہ پر دیتاہے۔اور تقرری کرایہ میعاد ادائیگی کرایہ اور زمانہ واپسی"کولھو"جملہ امورات وقت عقد طے ہوجاتے ہیں مگر بہت کم ایسا ہوتاہے کہ وہ لوگ اپنے وعدہ پر روپیہ ادا کریں،بمجبوری ان سے روپیہ وصول کرنے کے واسطے نوکر رکھ کر ان کے مکانوں کو بھیجاجاتاہے اور وہ سپاہی تقاضا گیر چند چند بار ان کے مکان پرجاکر تقاضاکرتاہے،بلکہ اپنی تنخواہ اورخوراك وغیرہ کا بار ان پر ظاہر کرتاہے اور قسم قسم کے خوف نالش اور خرچہ پڑنے کا دلاتاہے۔تب وہ لوگ روپیہ لاتے ہیں،اس پر بعض مطلق خیال میں نہیں لاتے،اور نالشوں وغیرہ کی نوبت آتی ہے۔
پس ایسی حالت میں کہ یہ سپاہی جو محض ان سے تقاضا کرنے کے واسطے رکھا گیا ہے جس کے مکانوں پر جاکر بضرورت تقاضا ٹھہرے،اوران سے اپنی خوراك لے،یااس کے سوا جس کے یہاں ٹھہرا ہے،دوسروں سے اسی گاؤں میں،اس کے قریب دوسرے گاؤں والوں سے اپنی خوراك لے،یا زید ان کرایہ داران سے اصل کرایہ میں تنخواہ تقاضا گیر کے بقدر ایام آمدو شد کے، یا اس تقاضا گیر کی خوراك شامل کرکے وصول کرے،یا وقت کرایہ کے ان سے زید شرط کرے کہ روپیہ ہمارا کرایہ کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع