30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنۡکَرِ "[1] الآیۃ |
کاحکم کرتے اور برائی سے روکتے ہو الآیۃ(ت) |
اور جبکہ حسب اظہار سوال اس کی نیت خالص لوجہ اﷲ ہے اور ہر گز نہ کسی سے سوال کرتا نہ طمع رکھتاہے،بلکہ مسلمان بطو رخود عُلماء کی اعانت اوراپنی سعادت کی نیت سے خدمت کرتے ہیں تو(بشرطیکہ یہ مال جو اسے دیا جائے بعینہٖ وجہ حرام سے نہ ہو) بلا شبہ اس کا لینا جائز اور وہ اس کے لئے حلال وطیب ہے،حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
اذا جاءك من ھذا المال شیئ وانت غیر مشرف ولا سائل فخذہ فتمولہ فان شئت کُلہ وان شئت تصدق بہ وما لا فلاتتبعہ نفسک[2]،رواہ الشیخان عن ابن عمرر ضی اﷲ تعالٰی عنہما۔ |
جب تیرے پاس یہ مال آئے جبکہ تو اس کے انتظار میں نہ ہو اور نہ تو اس کے لئے سائل بنا تو اسے لے کر مال بنااگر چاہے تو کھالے اور اگر چاہے صدقہ کردے۔اورمال نہ ملے تو اس کا پیچھا نہ کر۔اس کو بخاری ومسلم نے ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا ہے۔(ت) |
ہاں وعظ کو کہ عمدہ طاعات وقربات سے ہے ذریعہ حطام دنیا بنانے پر احادیث میں سخت وعیدیں آئیں،اور علماء نے بھی اس سے ممانعتیں فرمائیں، خلاصہ پھر تاتارخانیہ پھر عالمگیریہ میں ہے:
|
الواعظ اذا سأ ل الناس شیئا فی المجلس لنفسہ لا یحل لہ ذٰلك لانہ اکتساب الدنیا بالعلم [3]۔ |
واعظ نے اگر مجلس میں لوگوں سے اپنے لئے کچھ سوال کیا تویہ عمل حلال نہیں،کیونکہ یہ علم کے ذریعہ دنیا کا حصول ہے۔ (ت) |
یہ امر ان لوگوں پر واردجنھوں نے وعظ کو پیشہ اور نجارہ دینا حاصل کرنے کا تیشہ بنا رکھا ہے اور شك نہیں کہ عبادات وحسنات پر اُجرت لینا حرام اور اس کی تحریم علی الاطلاق پر احادیث ومذہب منصوص ائمہ کرام مگر جس کی نیت لوجہ اﷲ ہو اس پر اوروں کے فعل سے اعتراض نہیں،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع