30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اورقیمتوں کا وہی حکم ہوگیا جو بیع صحیح میں تھا کہ سب کےلئے حلال،غرض اس مذہب پر مشتریوں اور ان سے خریدنے والوں کے لئے مچھلیاں بہر صورت حقیقۃً وحکمًا حلال ہی رہتی ہیں،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ثالثہ:بنجروں کی گھاس بیچ ڈالنا
اقول:اگر زمینداروں نے وہ زمین ا س غرض کے لئے مہیا کی ہے کہ اس میں جو گھاس پید اہو ہم بیع کیا کریں،اور انھوں نے گھاس کی افراط وعمدگی کے لئے اس زمین کو پانی دلوادیا جو گھاس جمنے کا باعث ہوا،یاخودرو گھاس آپ ہی جم آئی،اورانھوں نے اس کی رکھوالی کرائی،اس کے گرد کھائی کھدوادی،یا باڑھ رکھوادی کہ روك ہوجائے،ہر جانور وغیرہ کے تصرف سے بچے،تو ان دونوں صورتوں میں وہ گھاس زمینداروں کی ملك ہوگئی،اور اس کی بیع صحیح وجائز،یہی قول راجح ومختار ہے،اور اسی کی طرف اکثر ائمہ کبار اور اگر ان صورتوں سے کچھ نہ تھا تو بیشك وہ گھاس ہر شخص کے لئے مباح ہے اور جو کاٹ لے گا اسی کی ملك ہوجائے گی،زمیندار اگر یونہی زمین میں قائم بیچ ڈالیں گے بیع باطل ہوگی،اور قیمت واپس دیں گے،فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
|
لایجوز بیع الکلاء واجارتہ وان کان فی ارض مملوکۃ ھذا اذا نبتت بنفسہ فاما اذا کان سقی الارض واعدھا للانبات فنبت ففی الذخیرۃ والمحیط والنوازل یجوز بیعہ لانہ ملکہ وھو مختار الصدر الشہید ومنہ مالو خندق حول ارضہ وھیاھا للانبات حتی نبت القصب صار ملکالہ وعلیہ الاکثر،ھکذا فی البحر الرائق ولو احتشہ انسان بلااذنہ کان لہ الاسترداد،ھوالمختار کذا فی جواہر الاخلاطی [1] واﷲ سبحانہ و |
کھڑی گھاس فروخت کرنا اور اس کو اجرت پر دینا صحیح نہیں ہے اگر چہ ذاتی زمین میں ہو،یہ جب ہے کہ گھاس خود اُگی ہو لیکن اگر زمین والے نے زمین کو سیراب کرکے گھاس کے لئے تیار کیا تو یہ گھاس فروخت کرنی جائز ہے کیونکہ اس عمل سے وہ گھاس کا مالك ہوگیا،یہ ذخیرہ،محیط اور نوازل میں ہے،اوریہی صدر شہید کا مختار ہے،اور اسی صورت میں سے ایك یہ ہے کہ اپنی زمین کے ارد گرد کھائی کھودی اور پیداوار کےلئے تیار کیا حتی کہ وہاں ناڑ اگا تو وہ اس کی ملك ہوگا اھ،اور اسی پر اکثریت ہے،بحرالرائق میں بھی یوں ہے۔اوراگر کسی نے اس کی اجازت کے بغیر کاٹا تو اس کو واپس لینے کا حق ہوگا یہی مختار ہے جواہر الاخلاطی میں یوں ہے۔واﷲ سبحانہ و |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع